واشنگٹن،تہران،بغداد(انٹرنیشنل نیوز)امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)نے کہا ہے کہ فوج نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے مکمل کر لئے جس میں ایرانی فوجی آپریشنز مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایاگیا ہے جبکہایرانی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت میں امریکا کے اہم ترین فوجی اڈوں میں سے ایک الدوحہ کیمپ پر ڈرون حملوں اور علی السالم ائیر بیس کے اطراف نصب ریڈار سسٹم کو تباہ کرنے کا دعوی کیاہے۔
عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران نے علاقائی اور عالمی تجارت کےلئے اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔سینٹکام نے دعوی کیا کہ ان “بلاجواز حملوں” سے سیکڑوں بے گناہ ملاحوں کی جانیں خطرے میں پڑیں اور بین الاقوامی آبی راستوں میں آزادانہ جہاز رانی متاثر ہوئی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے، جبکہ مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے تقریبا 900 تجارتی جہازوں اور 450 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ نقل و حمل میں مدد فراہم کی ہے۔
دوسری جانب ایران کی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس نےامریکی حملوں کے جواب میں آپریشن صاعقہ کے تحت حملوں کی 21ویں لہر میں کویت میں قائم امریکی فوجی اڈے کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ایرانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق چند گھنٹے قبل ایرانی افواج نے کویت کے مغرب میں واقع الدوحہ کیمپ میں امریکی فوج کے اہم اسلحہ گوداموں اور بری افواج کے کمانڈ سینٹر کے لاجسٹک آلات کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔بیان کے مطابق الدوحہ کیمپ کویت میں امریکا کے اہم ترین فوجی اڈوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں بڑی تعداد میں امریکی بری، بحری اور فضائی افواج کے اہلکار اور سازوسامان موجود ہیں اور یہ مغربی ایشیا میں امریکی افواج کے لیے ایک اہم سپورٹ سینٹر ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے مزید دعوی کیا ہے کہ اس نے کویت کے علی السالم ائیر بیس کے اطراف نصب ابتدائی انتباہی ریڈار اور ٹیکٹیکل ریڈار کمپلیکس کو تباہ کردیا ہے۔
اس کے علاوہ بوبیان جزیرے پر موجود ایک اور ریڈار نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اس کی کارروائی میں ان ریڈار نظاموں کو تباہ کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ “جارحیت کرنے والے کو سزا دینے کا آپریشن جاری رہے گا۔”دوسری جانب عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ اربیل شہر میں امریکی قونصل خانے کے قریب 3 ڈرون مار گرائے گئے، اربیل کے ائیر پورٹ پر پروازیں عارضی طور پر روک دی گئیں۔