کراچی (ایجوکیشن ڈیسک) جامعہ کراچی کے شعبہ سندھی ثقافت میں طلبہ کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم کا مقدمہ مبینہ ٹان تھانے میں درج کر لیا گیا۔ مقدمہ شعبہ سندھی ثقافت کے طالب علم نظیر احمد ولد امیر بخش کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں 20 طلبہ کو نامزد جبکہ متعدد نامعلوم افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی گزشتہ روز دوپہر تقریبا 12 بجے کلاس کے بعد شعبہ کی لیبارٹری میں موجود تھا کہ اسی دوران شیراز لاشاری، اسامہ یوسف، احمد، اظہر خاصخیلی، اریان خاصخیلی اور سلیم نامی طالب علم وہاں آئے اور مبینہ طور پر گالم گلوچ شروع کر دی۔ منع کرنے پر ملزمان نے مدعی کو لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ مدعی کے مطابق جان بچانے کے لیے شور مچا کر باہر نکلا تو وہاں پہلے سے موجود دیگر افراد، جن کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور لوہے کی راڈ تھیں، نے اسے پکڑ لیا۔
اس دوران اسے بچانے کے لیے آنے والے غلام مرتضی، کاشف جاوید، جاوید احمد، معشوق علی، ذیشان علی، اعجاز اور محمد حنیف نامی طالب علموں پر بھی مبینہ طور پر حملہ کر دیا گیا۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان نے اپنے مزید ساتھی بلا لیے اور سب نے مل کر ڈنڈوں، سریوں اور لوہے کی راڈوں سے تشدد کیا، جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ کے سروں، بازوں اور جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئیں اور وہ زخمی ہوگئے۔مقدمے میں فلک، سید عبداللہ، فیصل، عبداللہ بیگ، حمزہ شیخ، عارف آفریدی، کاشف پٹھان، فہیم، وہاب، عزیز چشتی، سرفراز بلوچ، سمیع اللہ، عظمت، رف، اسدالدین، محافظ، عابد، ذکا سومرو، زیر شاہ، شہباز بلوچ سمیت دیگر نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق بعض ملزمان کے پاس اسلحہ بھی موجود تھا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور جامعہ کی سیکیورٹی موقع پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے ڈا اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد ازاں انہیں جناح اسپتال ریفر کر دیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کا مقدمہ ہنگامہ آرائی، تشدد اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے جبکہ تصادم کے محرکات اور ذمہ دار افراد کے تعین کے لیے مختلف پہلوں سے تحقیقات جاری ہیں۔
تاہم ایس ایچ او تھانہ مبینہ ٹان انعام جنیجو کے مطابق گزشتہ روز پولیس نے کارروائی کے دوران 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔دوسری جانب، جامعہ کراچی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم کے معاملے پر صوبائی حکومت نے ایکشن لے لیا۔ وزیر جامعات سندھ محمد اسماعیل راہو نے جامعہ کراچی واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلی سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔ترجمان کے مطابق گزشتہ روز جامعہ کراچی میں طلبہ کے درمیان پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی اعلی سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے گئی ہے، کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر حسین مہدی (وائس چانسلر، شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری) ہوں گے۔
کمیٹی میں ڈاکٹر غضنفر، ڈاکٹر سرفراز میتلو، پروفیسر ڈاکٹر انتخاب الفت اور پروفیسر ڈاکٹر نائمہ سعید بھی شامل ہیں۔ وزیر جامعات نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد اور گروہوں کا تعین کیا جائے۔محمد اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ انتظامی و سیکیورٹی غفلت کا جائزہ لیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کےلیےسفارشات پیش کی جائیں۔ سندھ حکومت جامعات میں پرامن، محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول کے قیام کے لیے پرعزم ہے، کسی بھی قسم کی تشدد، بدامنی یا قانون شکنی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق انکوائری کمیٹی 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ سفارشات سمیت محکمہ جامعات و بورڈز سندھ کو پیش کرے گی، جامعہ کراچی اور تمام متعلقہ اداروں کو کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔جامعہ کراچی میں تصادم کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔مقدمے میں ہنگامہ آرائی اور تشدد کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ واقعے کے محرکات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تفتیش جاری ہے۔