اسلام آباد(کورٹ نیوز )اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کیخلاف دائر درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ نمبر لگانے کی ہدایت کر دی، جبکہ درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ جوڈیشل سائیڈ پر کرنے کا قرار دیا ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے علیمہ خانم اور مبشرہ خاور مانیکا کی درخواستوں پر سماعت کی، دوران سماعت بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ علیمہ خانم، شاندانہ گلزار اور دیگر رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔بیرسٹر سلمان صفدر نے موقف اختیار کیا کہ رجسٹرار آفس نے متاثرہ فریق نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا، حالانکہ علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی کی بہن اور مبشرہ خاور مانیکا بشری بی بی کی بیٹی ہیں، اس لیے انہیں درخواست دائر کرنے کا حق حاصل ہے، انہوں نے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کے اہل خانہ اس نوعیت کی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بشری بی بی سے دسمبر کے بعد ملاقات نہیں ہو سکی، جبکہ بانی پی ٹی آئی سے صرف دو مرتبہ چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر ملاقات ہوئی، بانی پی ٹی آئی کو نہ ٹی وی اور نہ ہی اخبار فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ دونوں میاں بیوی گزشتہ سات ماہ سے قیدِ تنہائی میں ہیں، جو غیر انسانی سلوک کے مترادف ہے۔جسٹس خادم حسین سومرو نے دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود کو روسٹرم پر طلب کیا، نیب پراسیکیوٹر نے مقف اختیار کیا کہ اپیلوں کی سماعت کے دوران قیدِ تنہائی سے متعلق متفرق درخواست پہلے ہی مسترد ہو چکی ہے، لہذا یہ معاملہ آئینی درخواست کے ذریعے نہیں اٹھایا جا سکتا بلکہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
اس پر بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ قیدِ تنہائی سے متعلق ان کی درخواست مسترد نہیں ہوئی اور اگر ایسا ہوا ہوگا تو وہ اس کی مصدقہ نقل عدالت میں پیش کر دیں گے، چیف جسٹس کے بینچ نے اس معاملے پر کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا۔دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواستوں کو نمبر لگانے کی ہدایت جاری کر دی، عدالت نے قرار دیا کہ درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کا معاملہ جوڈیشل سائیڈ پر دیکھا جائے گا۔بعد ازاں بیرسٹر سلمان صفدر کی استدعا پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل (منگل )تک ملتوی کر دی۔