لاہور(نمائندہ خصوصی) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) پنجاب نے غیرقانونی طور پر سموں کے اجرا اور استعمال میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب محمد علی وسیم کی ہدایات پر عمل میں لائی گئی، جبکہ تحقیقات کے دوران متاثرین سے دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کی گئی ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے کی رقم برآمد کرکے اصل مدعیان کے حوالے کر دی گئی۔
این سی سی آئی اے کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی شکایت پر شروع کی گئی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بعض افراد شہریوں کی شناختی معلومات اور بائیومیٹرک ڈیٹا کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی سمیں جاری کر رہے تھے۔ تکنیکی شواہد، ڈیجیٹل فرانزک تجزیے اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر بہاولپور کے علاقے یزمان میں واقع ایک فرنچائز پر چھاپہ مارا گیا۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان 5 عثمان ۔نیر عباس ۔ریاض ۔عاطف ۔عمر شامل ہیں۔گرفتار ملزمان میں ایک بینک ملازم اور ایک موبائل فرنچائزی کے ملازم بھی شامل ہیں تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان شناختی معلومات کے غیرقانونی استعمال اور مناسب تصدیق کے بغیر سموں کے اجرا میں ملوث تھے۔
چھاپے کے دوران بائیومیٹرک ویری فکیشن سسٹم (BVS)، سم اسکینرز، موبائل فونز، لیپ ٹاپ، سی پی یو اور دیگر ڈیجیٹل شواہد قبضے میں لے لیے گئے۔ فرانزک تجزیے میں ملزمان کے زیر استعمال موبائل فونز اور ڈیجیٹل آلات سے ایسے شواہد بھی ملے جن سے مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کی تصدیق ہوئی۔
اس مقدمے کی تفتیشی ایس ایچ او نجم باجوہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ملزمان سے ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے کی رقم ریکور کی گئی، جسے قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متاثرہ مدعیان کے حوالے کر دیا گیا۔ ادارے کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
این سی سی آئی اے پنجاب نے واضح کیا ہے کہ غیرقانونی سموں کے اجرا، شناختی معلومات کے غلط استعمال اور سائبر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔