الیکٹرانک دستخط

امریکا ، ایرا ن نے جنگ کے خاتمے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دئیے، معاہدہ نافذ العمل ہوگیا

اسلام آباد،تہران،پیرس(نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر دئیے ،معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا،وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ طور پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ، بطور ثالث اس کی توثیق کی ہے ۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ا یکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے معزز صدور نے دستخط کئے ہیں جبکہ بطور ثالث انہوں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی واضح علامت ہے کہ دونوں فریقین تنازع کے حل کئے ہیں سفارتی راستہ اختیار کرنے کےلئے سنجیدہ ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا ایران معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور ابتدائی قدم کے طور پر ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے جبکہ امریکا نے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور سفارتکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی امن کےلئے وابستگی نے ایک ممکنہ تباہ کن تنازع کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔وزیراعظم نے ایران کی اعلی قیادت بشمول آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی بصیرت اور دانشمندی کو سراہتے ہوئے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے اراکین محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی خدمات کو بھی اہم قرار دیا۔انہوں نے قطر کی قیادت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے کردار کو بھی اس پیش رفت میں انتہائی اہم اور تعمیری قرار دیا۔

وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی طور پر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششیں اس اہم پیش رفت اور خطے میں امن و استحکام کے لئے نہایت اہم ثابت ہوئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت پورے خطے میں باہمی تفہیم، احترام اور مشترکہ خوشحالی کی ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوگی۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں صدرایمانوئیل میکرون کے ساتھ عشائیے کے موقع پر ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کو میز پر مفاہمتی یادداشت کے دستاویز پیش کیے جس پر صدر ٹرمپ نے اپنے دستخط کیے۔اس موقع پر فرانسیسی صدر میکرون نے صدر ٹرمپ کو مبارک باد پیش کی۔

امریکی صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردئیے ہیں۔ امریکی حکام نے امریکی ویب سائٹ کو بتایا ہے کہ امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر مقررہ وقت سے پہلے ہی دستخط کر دئیے ہیں، اور یہ معاہدہ اب نافذ العمل ہو چکا ہے۔امریکا اور ایران کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق معاہدے پر دستخط پہلے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھے، تاہم ایک ثالث ملک کے سفار تکار اور ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ فریقین کے درمیان اس عمل کو پہلے مکمل کرنے اور جلد عملدرآمد شروع کرنے پر بات چیت جاری تھی۔ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی تصدیق کردی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن طے پاگیا، دونوں فریقین نے الیکٹرانک دستخط کر دئیے ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے متن پر ایران اور امریکا کے صدور نے دستخط کیے ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ملاقات معاہدے پر دستخط کے لیے نہیں، سوئٹزرلینڈ میں ملاقات ہوگی یا نہیں، اگلے چند گھنٹوں میں فیصلہ متوقع ہے۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنیوا میں مذاکراتی ٹیموں کی شرکت بدستور شیڈول کے مطابق رہے گی۔اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کیلئے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گے، آبنائے ہرمز کا معاملہ ایران اور عمان کی ذمہ داری ہے۔ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہے تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی تصورہوگی۔ ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جائے گی، ہمارے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ 60 دنوں میں دوسرے فریق کو خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے، نہ ہی دوسرے فریق کو نئی پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں، ایران کو آج سے آئندہ 60 دنوں تک اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ امریکا پابند ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی کے سلسلے میں رکاوٹیں دور کرے، ایران کے میزائلوں کے بارے میں کوئی دوسرا گفتگو کرے یہ بالکل پسند نہیں، ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی فریق کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی۔ وائٹ ہاﺅ س حکام نے بھی تصدیق کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردئیے۔

وائٹ ہاوس نے ویڈیو بھی جاری کی ہے جو ورسائی کے محل میں کھانے کی میز پر ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ویڈیو میں فرانسیسی صدر بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں، صدر ٹرمپ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی طرف سے دئیے گئے کاغذ پر دستخط کر رہے ہیں۔اس ویڈیو کی دلچسپ بات یہ ہے کہ کیمرہ مفاہمت کی یادداشت کے فارسی ورژن پر دستخط کرنے کے لمحے کو نمایاں کرتا نظر آتا ہے اور امریکی صدر کے ہاتھ کو زوم کرتا ہے۔چند منٹ بعد، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بھی مسعود پیزشکیان کی ایک تصویر شائع کی، جس میں ایرانی صدر نے کیمرے کے سامنے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کے ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط دکھائی دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں