کراچی (کورٹ نیوز ) سندھ ہائیکورٹ نے ڈائریکٹرجنرل ایس بی سی اے کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ملازمین کی تنخواہیں ادا کریں ورنہ آپ کی تنخواہ قرق کر لی جائے گی۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سیہون ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ضم ہونے والے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے کو آخری وارننگ جاری کر دی۔عدالت نے ریمارکس میں کہا ہے کہ اگر ملازمین کے واجبات ادا نہ ہوئے تو ڈی جی ایس بی سی اے کی اپنی تنخواہ قرق کر لی جائے گی۔سیہون ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے متاثرہ ملازمین کی درخواستوں پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جب سابقہ کے بی سی اے کو ایس بی سی اے میں تبدیل کیا گیا تو اس دوران متعدد دیگر محکمے اور ملازمین بھی اس میں ضم کیے گئے تھے۔
وکیل ملازمین نے قانون کے مطابق ایس بی سی اے میں باقاعدہ جوائننگ دے دی ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں ایک سال سے زائد عرصے سے تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ ملازمین کو دفاتر اور عدالتوں کے چکر کاٹتے ہوئے ایک سال سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے اور تنخواہیں نہ ملنے کے باعث ان کے لیے اب زندگی گزارنا اور گھر چلانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، لہذا ان کے واجبات فوری ادا کیے جائیں۔
سندھ ہائیکورٹ نے معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایس بی سی اے کو سخت احکامات جاری کیے ہیں کہ 29 جون 2026 تک تمام متاثرہ ملازمین کے واجبات اور تنخواہیں لازمی ادا کر کے عدالت میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔عدالت نے واضح کیا کہ مقررہ تاریخ تک عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ڈائریکٹر جنرل کی تنخواہ روکنے اور قرق کرنے کے احکامات جاری کر دئیے جائیں گے۔