ایرانی فٹبال ٹیم

امن معاہدے کے تاریخی روز ایرانی فٹبال ٹیم امریکا پہنچ گئی

لاس اینجلس(سپورٹس نیوز )امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایرانی قومی فٹبال ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 میں نیو زی لینڈ کیخلاف اپنے پہلے میچ کےلئے امریکا پہنچ گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جنگ اور پھر امن معاہدے کے باعث اس میچ کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔

ایرانی قومی فٹبال ٹیم کو فیفا ورلڈ کپ کے سلسلے میں پہلی بار امریکا پہنچ گئی۔ ٹیم لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری اور پریس کانفرنس بھی کی، جبکہ اسی روز امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے اعلان نے اس آمد کو مزید اہم بنا دیا۔ایرانی اسکواڈ میکسیکو کے شہر تیجوانا سے مختصر پرواز کے ذریعے لاس اینجلس پہنچا۔ روانگی کے وقت ہوٹل کے باہر موجود شائقین نے ٹیم کو بھرپور انداز میں رخصت کیا۔ ایران کے ہیڈ کوچ امیر قلعہ نویی نے پریس کانفرنس میں مترجم کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عظیم، باوقار اور مضبوط ایرانی قوم کی نمائندگی پر فخر ہے۔انہوں نے کہا، مجھے امید ہے کہ فٹبال خوشی اور تفریح کا ذریعہ بنے گا اور مختلف ثقافتوں اور ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دے گا۔

ایران نے گزشتہ ماہ اپنے ورلڈ کپ بیس کیمپ کو امریکی ریاست ایریزونا کے ایک اسپورٹس کمپلیکس سے میکسیکو منتقل کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے تھے۔اب ایرانی ٹیم کو اپنے تینوں گروپ میچز کے کےلئے میکسیکو سے امریکا آنا جانا پڑے گا۔ امیر قلعی نویی کے مطابق مسلسل سفر اور ایرانی فٹبال فیڈریشن کے بعض ارکان کو امریکی ویزے جاری نہ کیے جانے سے ٹیم متاثر ہوئی ہے۔اس سے قبل تیجوانا میں ایرانی ٹیم کے ہوٹل کے باہر بڑی تعداد میں شائقین جمع ہوئے۔ انہوں نے ٹیم ملی کے نعرے لگائے اور کھلاڑیوں کا بھرپور استقبال کیا۔کئی کھلاڑیوں نے شائقین کی جانب ہاتھ ہلایا جبکہ وفد کے بعض ارکان نے اپنے موبائل فونز سے اس منظر کی ویڈیوز بھی بنائیں۔

ایک مداح نے زرد رنگ کا بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا: ایران، تم کبھی تنہا نہیں چلو گے، میکسیکو تمہارے ساتھ ہے۔ایک موقع پر شائقین نے ہسپانوی زبان میں نعرہ لگایا، ایران، بھائی! اب تم میکسیکن ہو۔ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج بھی ہوٹل کے باہر موجود تھے اور جب ٹیم کی بس روانہ ہوئی تو متعدد شائقین کافی دور تک اس کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔تیجوانا میں ایرانی کمیونٹی کی تعداد تقریبا 20 افراد پر مشتمل ہے، جبکہ لاس اینجلس ایران سے باہر دنیا کی سب سے بڑی ایرانی کمیونٹی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

لاس اینجلس میں دسیوں ہزار ایرانی نژاد امریکی آباد ہیں اور شہر میں ایرانی تارکین وطن کی ایک نمایاں آبادی موجود ہے جسے اکثر تہرانجلس کہا جاتا ہے۔یہ 1930 میں ورلڈ کپ کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی میزبان ملک نے ایسے ملک کی میزبانی کی ہو جس کے ساتھ وہ حالیہ جنگ میں شامل رہا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں