کراچی (نیوز ڈیسک )سندھ کا مالی سال برائے 27-2026 کا بجٹ کل (بدھ) 17جون کو پیش کیا جائے گا۔ذرائع محکمہ خزانہ کے مطابق نئے مالی سال کا بجٹ وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ پیش کریں گے۔نئے مالی سال کے بجٹ کا کل حجم رواں مالی سال سے کم رکھے جانے کا امکان ہے۔ رواں مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 3400 ارب تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے فنڈز میں کٹوتی نہیں کی جائے گی۔سندھ کے مجموعی ترقیاتی بجٹ میں 15 سے 20 فیصد کٹوتی کی تجویز ہے۔ دریں اثنا وزیرِ اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پیسوں کی شدید قلت کا سامنا ہے ، تنخواہوں میں ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کتنااضافہ کرسکتے ہیں۔ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا صوبائی حکومت کی 6 ماہ کی کارکردگی، وفاق کے ساتھ تصفیہ طلب معاملات اور سیاسی صورتحال پر کھل کر گفتگو کی ہے۔
انہوں نے ماضی کے وفاقی وعدوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی اور سندھ کے عوام اب اپنے حقوق اچھی طرح جانتے ہیں۔وزیرِ اعلی سندھ نے حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت نے شدید مالی مشکلات کے باوجود گزشتہ 6 ماہ کے دوران ریکارڈ وقت میں اپنے 6 بڑے میگا پروجیکٹس مکمل کیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ تمام منصوبے عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون اور اشتراک سے پائے تکمیل تک پہنچائے ہیں۔مراد علی شاہ نے ماضی کی وفاقی حکومتوں کے اعلانات کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ “ایک صاحب یہاں آ کر 1100 ارب روپے کا وعدہ کر کے گئے تھے، لیکن عملی طور پر انہوں نے 11 روپے بھی نہیں دئیے۔
انہوں نے موجودہ وفاقی بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاق نے سندھ کے اہم پروجیکٹس کے لیے اس بار 64 ارب روپے مختص کیے ہیں۔صوبے کے بڑے سفری منصوبے پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلی نے اعلان کیا کہ طویل عرصے سے زیرِ التوا حیدرآباد-سکھر موٹروے کا تعمیراتی کام آئندہ سال جنوری میں باقاعدہ شروع ہو جائے گا، اور یہ منصوبہ ساڑھے 3 سال کی مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔پانی کے سنگین بحران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت سندھ کو اپنے حصے کے 41 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے، جس پر انہوں نے وفاقی حکومت کو باقاعدہ احتجاجی خط لکھ کر صوبے کا مقدمہ پیش کیا ہے۔
وزیرِ اعلی نے اعتراف کیا کہ سندھ حکومت کو اس وقت پیسوں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے ہمیں اپنے مالی وسائل کو دیکھنا ہوگا کہ ہم بجٹ میں کتنا اضافہ برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔ایم کیو ایم(پاکستان )پر طنز کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات سے میری صحت یا کراچی کے کسی شہری پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
انہوں نے بلدیاتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “انہوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا، اگر اتنی ہی مقبولیت تھی تو میدان میں آ کر لڑ لیتے۔مصطفی کمال کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم انہوں نے کیا کہا ہے، ہم کسی کے گھر کے معاملات میں دخل نہیں دیتے، وہ اپنا گھر خود سنبھالیں۔اپنی وزارتِ اعلی کے حوالے سے افواہوں پر مسکراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ہمیشہ مرچ مصالحہ چاہیے ہوتا ہے، مجھے عہدے سے ہٹانے کی باتیں گزشتہ 10 سال سے ہو رہی ہیں، لیکن ہم اپنے کام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔