اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز نے حکومتی پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں غربت میں اضافے سے نمٹنے کےلئے کوئی مضبوط اور واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی،حقیقی مہنگائی سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ایک انٹرویو میں دانیال عزیز نے آئندہ سال شرح نمو کا ہدف مقرر کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ میں آپ کی توجہ تین بنیادی نکات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔
پہلا یہ کہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت سے نمٹنے کے لئے کوئی مضبوط اور واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی۔دوسرا مسئلہ مہنگائی ہے، حکومت نے افراطِ زر کے مختلف تخمینے پیش کیے ہیں، لیکن میرے خیال میں حقیقی مہنگائی سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔مزید یہ کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کا ہدف 1.4 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 1.7 ٹریلین روپے کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی پر مزید دبا پڑسکتا ہے۔
تیسرا اہم مسئلہ بے روزگاری ہے بجٹ میں ایسا کوئی واضح اور ہدفی منصوبہ دکھائی نہیں دیتا جس سے روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہو یا بے روزگاری میں کمی آئے۔انہوںنے کہا جہاں تک ٹیکس ریلیف کا تعلق ہے تو اگر موجودہ اور آئندہ سال کی متوقع مہنگائی کو ملا لیا جائے تو مجموعی بوجھ تقریبا 16 فیصد بنتا ہے، ایسی صورت میں اگر حکومت صرف 3 فیصد ٹیکس کم کرتی ہے تو عام ملازم کی حقیقی قوتِ خرید میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئے گی۔