بیروت،تل ابیب(نیوز ڈیسک )ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی معاہدے کی اطلاعات کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر مسماری کی کارروائی کے دوران جنوبی لبنان کے شہروں مرجعیون اور نبطیہ میں زوردار دھماکے سنے گئے ،اسرائیلی فوج نے لبنان کی سرحد کے قریب ڈرونز گرانے کا دعوی کیا ہے جبکہ حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے جنگجووں کا جنوبی لبنان کے سرحدی قصبے مجدل زون کی جانب پیش قدمی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ تصادم ہوا ہے۔
لبنانی قومی خبر رساں ا دارے کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک بڑے پیمانے پر مسماری کی کارروائی کے دوران جنوبی لبنان کے شہروں مرجعیون اور نبطیہ میں زوردار دھماکے سنے گئے۔ بق یہ دھماکے نبطیہ کے قریب واقع علی الطاہر پہاڑی کے اطراف میں کئے گئے، جہاں اسرائیلی کارروائی کے دوران مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ زمین لرز اٹھی اور اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، واقعہ کے باعث مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے شمالی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجنے کے بعد جنوبی لبنان کے قریب کئی ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا۔اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ ایک اور ڈرون لبنان سے متصل سرحدی علاقے کے قریب اسرائیلی حدود میں گر گیا، تاہم واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ڈرون کے اسرائیلی علاقے میں گرنے کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ادھر اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تین دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی ہے جبکہ لبنانی سرکاری میڈیا نے ملک کے جنوبی حصوں میں مختلف علاقوں پر حملوں کی خبر دی ہے۔ دوسری جانب لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دعوی کیا ہے کہ اس کے اہلکاروں نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
لبنانی مزاحمتی تنظیم کے مطابق اس کے اہلکاروں نے یحمر الشقیف کے جنوب مشرقی مضافات میں ایک اسرائیلی مرکاوا ٹینک کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صور کے علاقے نقرہ میں واقع ایک ہوٹل میں موجود اسرائیلی فوجیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے
تاہم واقعے پر اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ شام اسرائیلی افواج پر کئی راکٹ داغے جس کے باعث وہ پسپا ہو گئے، اور پھر اور نیم بھاری ہتھیاروں اور راکٹوں کا استعمال کرتے ہوئے ان پر مزید حملے کیے۔حزب اللہ نے یہ بھی دعوی کیا کہ اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے خلاف دیگر حملے بھی کیے ہیں