تہران،تل ایب،صنعا(انٹرنیشنل نیوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کو جوابی کارروائی سے باز رہنے کے مشورے کے باوجود اسرائیل نے ایران پر حملے کر دئیے ،اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے ماہشہر میں پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ کیا ہے، تہران، تبریز اور اصفہان میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات ہیں جبکہ ایران نے بھی ایک بارپھر میزائل داغے ہیں ، دونوں ممالک کے درمیان تازہ فضائی اور میزائل تباد لے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضاف ہوگیا ۔
عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس نے وسطی اور مغربی ایران میں فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔تازہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے ایران پر حملوں سے گریز کرنے کی درخواست کی تھی۔اسرائیل نے یہ کارروائی گزشتہ روز شمالی اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کے جواب میں کی، جو بیروت میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔یہ پہلا موقع ہے کہ دو ماہ قبل جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اسرائیل نے ایران پر براہ راست حملہ کیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران، اصفہان، تبریز اور نجف آباد میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔غیر ملکی اور مقامی میڈیا کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں ایک کے بعد ایک دھماکے سنے گئے جس کے بعد شہری علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے لگے۔ اسرائیلی دفاعی افواج نے ایران کے جنوب مغرب میں واقع شہر ماہشہر میں ایک پیٹروکیمیکل تنصیب کے متعدد اہم مقامات پر حملے کیے ہیں۔اسرائیلی فوج اور ایرانی سرکاری میڈیا دونوں نے ہی اس اہم تنصیب پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق خلیج فارس کے شمالی ساحل کے قریب واقع اس صنعتی کمپلیکس کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔
ایران کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وسطی اور مغربی ایران پر اسرائیلی حملوں کے دوران دارالحکومت تہران کے شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔مقامی میڈیا نے تہران فائر ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سوموار کی علی الصبح تہران کے مغربی علاقوں میں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔اس سے قبل تبریز، اصفہان اور کرج کے قریب بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔تاحال حملوں سے ہونے والے نقصان کی نوعیت اور حجم واضح نہیں ہو سکا ہے۔سرکاری میڈیا کے مطابق اصفہان کے مقامی حکام نے بتایا ہے کہ وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ ملک کے دیگر علاقوں سے نقصانات یا ممکنہ ہلاکتوں کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ نقصان کی تفصیلات اور ممکنہ جانی نقصانات کے حوالے سے مزید معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔اس دوران ایران بھر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ادھر ایران نے پیر کی صبح ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل داغے ہیں۔گزشتہ رات بھی شمالی اسرائیل پر ایرانی میزائلوں کی بارش کر دی گئی تھی، جو اپریل کی جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس وسطی اور جنوبی اسرائیل پر بھی مزید میزائل فائر کیے گئے۔
اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران سے اسرائیلی علاقے کی جانب ایک مرتبہ پھر میزائل داغے گئے ہیں۔اسرائیلی فضائیہ کے سرکاری ایکس اکاﺅنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہو گیا ہے۔ گزشتہ چند منٹوں میں ہوم فرنٹ کمانڈ نے متعلقہ علاقوں میں براہِ راست موبائل فونز پر ابتدائی ہدایات جاری کی ہیں۔اسرائیلی حکام نے عوام سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ہدایات جانیں بچانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ الرٹ موصول ہوتے ہی فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں داخل ہو جائیں اور اگلے اعلان تک وہیں موجود رہیں۔بیان میںمزید کہا گیا ہے کہ محفوظ مقامات سے باہر نکلنے کی اجازت صرف واضح ہدایت کے بعد دی جائے گی اور شہریوں کو ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر مسلسل عمل جاری رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب ایک میزائل داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام اس خطرے کو ناکام بنانے کےلئے متحرک ہو گیا ہے اور میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے مرکزی بن گورین ائیرپورٹ پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزارتِ ٹرانسپورٹ، ائیرپورٹ اتھارٹی اور ہوم فرنٹ کمانڈ کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر بن گوریون ائیرپورٹ پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اسرائیلی میڈیا کا اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہنا ہے کہ فضائی آپریشنز کےلئے ہنگامی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، جنگ بڑھنے پر مسافر طیاروں کو فوری طور پر ملک سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق بن گورین ائیرپورٹ پر مسافروں کی تعداد 2500 تک محدود کرنے پر غور کیا گیا ہے ، اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ائیرپورٹ کا اسٹاف اور مسافروں کی مجموعی تعداد 2500 تک ہونی چاہیے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نابلس کے قریب اسرائیلی قبضہ بستی میں ایرانی میزائلوں سے چار عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران سے داغے گئے میزائل کے گرنے سے متعدد مکانات کو نقصان پہنچا، اسرائیلی افواج کے بھرتی سینٹر کے قریب بھی میزائل گرے، میزائل حملے سے متعدد املاک کو بھاری نقصان ہوا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائل سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، اسرائیلی حکام کا دعوی ہے کہ ایرانی حملوں میں صرف مالی نقصان ہوا۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس، تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے گرد و نواح میں خطرے کے سائرن بجائے گئے ہیں۔بعد ازاں اسرائیلی فوج نے اپنی صورتحال کے جائزے کے بعد اعلان کیا کہ ملک کے تمام علاقوں میں شہری اب محفوظ پناہ گاہوں سے باہر آ سکتے ہیں۔ دریں اثنا ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع دو فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے معلومات کے مطابق پیر کی صبح اسرائیلی فضائیہ کے تل نوف اور نواتیم ایئربیسز کو ہدف بنایا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ ہی دیر قبل پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس نے اس کارروائی میں نواتیم اور تل نوف کے اہم اور سٹریٹجک فضائی اڈوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے ایران میں متعدد ریڈار تنصیبات پر کیے گئے میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی جارحیت کے جواب میں فوری کارروائی اور اہداف کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اس مرحلے میں ان کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ ان کی تمام جنگی اور آپریشنل یونٹس مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کے ممکنہ اقدامات کے جواب کے لیے جامع منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔
جبکہ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کی میزائل صلاحیتوں کے ذریعے مقبوضہ علاقوں پر اپنی فوجی برتری ثابت کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں جنرل محبی نے دعوی کیا کہ ایران نے بارہا ثابت کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں اور خطے کی فضائی حدود اس کے اثر و رسوخ میں ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے تباہ کن میزائلوں کی زد میں ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جائز دفاعی اقدام قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کا ردعمل اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں اور لبنان کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے بعد سامنے آیا۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ لبنان یا ایرانی مفادات پر کسی بھی مزید اسرائیلی حملے کا جواب زیادہ وسیع اور سخت انداز میں دیا جائے گا۔
ادھر یمنی حوثیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی میری ٹائم نیوی گیشن پر مکمل پابندی عائدکرنے کا اعلان کر دیا۔ عرب میڈیارپورٹس کے مطاق یمنی حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پرحملہ کیاہے، بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری آمد و رفت پر مکمل پابندی عائدکردی ہے، کسی بھی قسم کی کشیدگی میں اضافے کا جواب اسی شدت سے دیں گے۔