تہرن (انٹرنیشنل نیوز ) ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ جارحیت دوبارہ شروع کی گئی تو اس کے نتائج پہلے سے زیادہ حیران کن ہوں گے، جنگ میں جو کچھ سیکھا ہے، اس کی مدد سے مزید حیرت انگیز ردعمل دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی کانگریس نے بھی ایران پر حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے بھاری نقصانات، بشمول درجنوں جنگی طیاروں کی تباہی کا باضابطہ اعتراف کر لیا ہے جو ایران کی کامیاب دفاعی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔
عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران ایران کی عسکری کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر جنگ کے آغاز کے کئی ماہ بعد اب امریکی کانگریس اربوں ڈالر مالیت کے درجنوں طیاروں کے نقصان کا اعتراف کر رہی ہے۔انہوں نے خاص طور پر جدید ترین امریکی لڑاکا طیارے ایف 35 کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہماری طاقتور مسلح افواج وہ پہلی قوت ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں جدید ترین اور ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے ایف 35 طیارے کو مار گرایا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی فوج نے حالیہ جارحیت سے کافی آپریشنل تجربہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے امریکا اور اتحادیوں کو خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ کسی بھی قسم کی عسکری محاذ آرائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں دشمن کو مزید سرپرائزز ملیں گے۔دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ٹرمپ جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ایک فیصلہ کن فوجی ردعمل اور ایک متحد قوم کا سامنا کرنا ہوگا۔ایکس پر جاری بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی کسی نئی جارحانہ کارروائی سے ہچکچاہٹ کی واحد وجہ ایرانی افواج کے فیصلہ کن ردعمل اور ایرانی عوام کے اتحاد کا خوف ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے رہنماﺅ ں کی ثالثی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، طاقت ہی وہ واحد زبان ہے جسے ٹرمپ سمجھتے ہیں۔