امریکہ، کیلیفورنیا

امریکہ، کیلیفورنیا میں اسلامک سینٹر میں فائر نگ سے محافظ سمیت 3 افراد جاں بحق، کمسن مشتبہ حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد مبینہ طور پرخودکشی کرلی

نیویار ک (انٹرنیشنل نیوز)امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک اسلامک سینٹر میں فائر نگ کے واقعہ میں محافظ سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ کمسن مشتبہ حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد مبینہ طور پرخودکشی کرلی۔ غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق ریاست کیلیفورنیا کے شہر سین ڈیاگو کے اسلامک سینٹر میں فائرنگ کی گئی ۔

مسجد کا دفاع کرنے کی کوشش میں محافظ جاںبحق ہوگیا ،واقعہ میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق اسلامک سینٹر میں حملہ آوروں کی فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق ہوئے۔ واقعے میں 2 مشتبہ حملہ آوروں سمیت5 افراد مارے گئے ہیں ۔پولیس کا کہنا ہے کہ 2 مشتبہ حملہ آوروں نے مسجد پر فائرنگ کی تھی،دونوں مارے گئے اور صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔ پولیس نے خیال ظاہر کیا ہےکہ فائرنگ کاواقعہ نفرت پرمبنی جرم ہے اور دونوں مشتبہ حملہ آور کمسن تھے۔پولیس کے مطابق کیلیفورنیا میں فائرنگ کاواقعہ نفرت پر مبنی جرم ہے، مشتبہ حملہ آور نے 3 بندوقیں والدہ کے گھر سے لیں اور تحریری پیغام میں نسلی تفاخرکا اظہارکیا۔ مسجد انتظامیہ نے تصدیق کی ہےکہ فائرنگ سے محافظ مارا گیا ہےتاہم اسکی شناخت ابھی سامنے نہیں لائی گئی۔

مسجد کے پیش امام طحہ حسنی نے بتایا کہ حملہ آور کی فائرنگ سے بچے محفوظ رہے۔دوسری جانب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کیلیفورنیا کی مسجد میں ہونےوالے فائرنگ کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسلاموفوبیا امریکا بھر میں مسلم کمیونٹی کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ ظہران ممدانی نے کہا کہ اسلاموفوبیا امریکا بھر میں مسلم کمیونٹی کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ظہران ممدانی نے تمام امریکی شہریوں پر زور دیا کہ اسلاموفوبیا کا مقابلہ کریں اور نفرت اور خوف کی سیاست کے خلاف کھڑے ہوں۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کیلیفورنیا کی مسجد میں فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے تشویشناک قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں