بیروت،تل ابیب(نیوز ڈیسک)اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کی فورسز نے آپریشنز کے دوران تقریبا 1000 ایسی تنصیبات کو تباہ کیا ہے جنھیں اس نے دہشت گردوں کا انفراسٹرکچر قرار دیا۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ایلا واویہ نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ انفراسٹرکچر حزب اللہ کے کارکن اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔بیان میں کہا گیا کہ کارروائیوں کے دوران فوج نے سینکڑوں ہتھیار بھی برآمد کیے، جن میں مشین گنز، کلاشنکوف رائفلیں، دستی بم، بارودی سرنگیں، پستول، اینٹی ٹینک میزائل، آر پی جی گولے اور مارٹر شیلز شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس کی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ ان کا خاتمہ کیا جا سکے جنہیں اسرائیلی فوج خطرہ قرار دیتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعوی کیا ہے کہ لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے پاس اب اپنے اسلحہ ذخیرے کا صرف 10 فیصد باقی رہ گیا ہے۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات اعلی فوجی حکام سے ملاقات کے دوران کہی ۔اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے یہ اندازہ جنگ کے آغاز میں موجود میزائلوں کے مقابلے کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، امریکا اور لبنان کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں نے اسرائیل کو فوری اور ابھرتے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے کارروائی کی آزادی فراہم کی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا مزید کہنا ہے کہ ہم سکیورٹی زون اور دریائے لیطانی کے شمال میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔