جاوید قصوری

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام دشمن، واپس لیا جائے’جاوید قصوری

لاہور (نیوز ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کی ممبر سازی مہم کا آغاز ہو گیا ہے، یہ مہم آج سے پورے پنجاب سمیت ملک بھر میں شروع کی جا رہی ہے، اس مہم کا مقصد جماعت اسلامی کے پیغام کو ہر گلی، محلے اور ہر گھر کی دہلیز تک پہنچانا ہے، کارکنان اور ذمہ داران بھرپور انداز میں اس مہم کو کامیاب بنائیں اور عوام کو موجودہ حالات سے آگاہ کریں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام موجودہ حکمرانوں سے مکمل طور پر مایوس ہو چکے ہیں اور ملک کو ایک دیانتدار، باصلاحیت اور عوام دوست قیادت کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی ہی واحد جماعت ہے جو ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کر سکتی ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو خصوصی طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آگے بڑھیں اور جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تاکہ ایک روشن، خوشحال اور انصاف پر مبنی پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔ وقت آ گیا ہے کہ قوم متحد ہو کر ظلم و ناانصافی کے نظام کے خلاف آواز بلند کرے اور مثبت تبدیلی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ محمد جاوید قصوری نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عوام دشمن اقدام قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لٹر اور ڈیزل کی قیمت میں بھی اسی شرح سے اضافہ کر کے پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرول پر لیوی بڑھا کر 107 روپے 38 پیسے فی لٹر تک پہنچا دی گئی ہے، جو کہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔ حکومت فوری طور پر پٹرول کی قیمت کو کم کرکے 250روپے پر لائے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح 13.98 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس میں حالیہ اضافے کے بعد مزید اضافہ متوقع ہے۔ حکمرانوں نے ایران امریکہ کشیدگی کو جواز بنا کر عوام پر مہنگائی کے نئے بوجھ ڈالے ہیں، مہنگی بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات نے عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے اور لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشان ہیں۔ محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ہر روز نئے ٹیکسز اور قیمتوں میں اضافہ عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر رہا ہے۔ حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں اور پروٹوکول پر خرچ کم کرنے کے بجائے عوام پر بوجھ ڈال رہا ہے، جو کہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں