اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدیات کی ہے کہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں،اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی ترقی پر حکومت 10 ارب روپے خرچ کرے گی،اسلام آباد میں جاری ترقیاتی کاموں پر 24 گھنٹے کام یقینی بنایا جائے،ہر منصوبے کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے،بارہ کہو بائی پاس کو جلد مکمل کیا جائے جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے مربوط نظام کے تعارف کے حوالے سے سی ڈی اے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے اسلام آباد میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کرنے اور عوامی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کیلئے جائزہ کمیٹی قائم کر دی۔
بدھ کو وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر اعظم نے اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی ترقی اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے بھی تفصیلات طلب کیں۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے سی ڈی اے نے 10 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے جس سے سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ، سیوریج کا نظام اور سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی۔اجلاس کو بارہ کہو بائی پاس، 7th ایونیو انٹرچینج، مارگلہ ایونیو، 11th ایونیو، IJP روڈ، اسلام آباد ایکپریس وے، اور پارکنگ پلازہ کے جاری منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بارہ کہو بائی پاس پر 24 گھنٹے کام جاری ہے،۔
وزیر اعظم نے بارہ کہو بائی پاس کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بارہ کہو بائی پاس عوامی نوعیت کا اہم منصوبہ ہے جس کی تعمیر میں کسی قسم کا تعطل قبول نہیں کیا جائیگا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 7th ایونیو انٹر چینج اور مارگلہ ایونیو منصوبے مکمل ہوچکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آئی جے پی روڈ کا توسیعی منصوبہ 23 مارچ تک مکمل کر لیا جائیگا، مزید برآں 11th ایونیو اور اسلام آباد ایکسپریس وے کا فیز ون رواں سال کے وسط جبکہ بلیو ایریا پارکنگ پلازہ اور ایکسپریس وے کا فیز ٹو رواں سال کے آختتام تک مکمل کرلئے جائیں گے۔اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے کی جانب سے ٹرانسپورٹ کے فیڈر روٹس اور بس ٹرمینل کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سی ڈی کی جانب سے بین الاقوامی معیار کا ایک نیشنل بس ٹرمینل اور 3 سیٹلائٹ ٹرمینل بنائے جائیں گے جس میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری ہوگی،اسکے علاوہ 90 دن میں بسوں کے 13 فیڈر روٹس شروع کئے جا رہے ہیں جبکہ چار فیڈر روٹس اس وقت کام کر رہے ہیں،اسلام آباد کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر 2 لاکھ کے قریب لوگ معیاری سفری سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم کو اسلام آباد میں پارکنگ کے مسائل کے حل کیلئے سی ڈی اے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ مزید برآن سی ڈی اے F8, F10, G9, 1ـ8 اور بلیو ایریا میں پارکنگ پلازے بنا رہی ہے، 5000 گاڑیوں کی پارکنگ کی استعداد سے یہ پارکنگ پلازے شہر میں پارکنگ کے مسئلے کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے رہائشی منصوبوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی، وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ ان منصوبوں کو بین الاقوامی معیار پر لانے کیلئے ان میں بہترین سہولیات میسر کی جائیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں. ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے نظام کو شفاف اور خودکار بنایا جائے. منصوبوں کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تعطل قبول نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ منصوبوں پر کام کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آباد میں پارکنگ کے مسائل فوری طور پر حل کئے جائیں۔وزیرِ اعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے سی ڈی اے کے منصوبوں کو تیز رفتار سے مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ سمندر پار پاکستانیوں کیلئے جاری منصوبوں کو بین الاقوامی معیار پر تعمیر کیا جائے،سمندر پار پاکستانیوں کیلئے منصوبوں کو شفاف اور طریقہ کار آن لائن بنایا جائے۔ وزیراعظم نے کہاکہ سمندر پار پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائے۔اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، رانا ثنائ اللہ، مشیرِ وزیرِ اعظم احد چیمہ، معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سابقہ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری، سابقہ ارکانِ اسمبلی حنیف عباسی، انجم عقیل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی ۔