چین کے قومی دن کی تعطیلات کے حالیہ گولڈن ویک میں لوگوں کا دو طرفہ بہاؤ دیکھنے میں آیا۔ ایک طرف، چینی شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے مختلف غیر ملکی مقامات کا طویل سفر کیا جبکہ دوسری جانب غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ویزا فری پالیسیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین آ کر خود چین کی گلیوں اور قدرتی مقامات پر چینی تہوار کے مستند ماحول کا مشاہدہ کیا ۔
گولڈن ویک کی تعطیلات میں اب یک طرفہ “ملکی نقل مکانی” نہیں رہی۔ چینی لوگ دنیا بھر میں گھومنے جا رہے ہیں اور دنیا چین کے قریب آ رہی ہے۔ لوگوں کا یہ دو طرفہ بڑھتا ہوا بہاؤ چین کے کھلے پن اور توانائی کے مشاہدے کا ایک دریچہ ہے۔
وسط خزاں کے تہوار اور قومی دن کی تعطیلات کو اکٹھا کرنے کی بدولت، بہت سے چینی افراد نے دس دنوں سے زیادہ طویل چھٹیاں حاصل کیں ۔ آؤٹ باؤنڈ سفر اب قریبی مقامات کے مختصر دوروں تک محدود نہیں رہا۔ یورپ، آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ اورجنوبی امریکہ جیسے دور دراز مقامات کی سیاحتی بکنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور ایک سے زیادہ ممالک کے مشترکہ سفر کے پروگرام بہت سے سیاحوں کی پسند بن گئے ہیں۔
دوسری جانب اس دوران چین کے بڑے شہروں اور قدرتی مقامات پر غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نظر آئی ۔ کچھ شاندار چوٹیوں اور خوبصورت پانیوں کی وجہ سے مشہور زانگ جیاجے دیکھنے جاتے ہیں، جب کہ کچھ یان شو جا کر پہاڑوں اور دریاؤں کے درمیان مقامی رسم و رواج اور لزیز کھانوں کا تجربہ حاصل کرتے ہیں ۔ ویزا فری پالیسی کے دائرے میں مسلسل توسیع اور کسٹم کلیئرنس اور ادائیگی کی سہولیات میں مسلسل بہتر ی کے باعث “غیرملکیوں کا چین جا کر چینی تہوار منانا ” ایک نئے موضوع سے حقیقت میں بدل رہا ہے.لوگوں کی اس دو طرفہ نقل و حمل کے پیچھے اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر ایک توانائی پوشیدہ ہے۔
مقامی سطح پر،چین کے عام شہریوں کے پاس بیرون ملک سفر کرنے اور دنیا کو دیکھنے کے ذرائع اور اعتماد ، ان کے معیار زندگی میں بہتری اور متنوع ثقافتی تجربات کی مانگ میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ بیرونی دنیا کے لیے، غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی تعداد کا چین آنے کا انتخاب، نہ صرف مشہور پہاڑوں اور دریاؤں کی سیر ہے بلکہ اس کی وجہ چین کے ادارہ جاتی کھلے پن کی مسلسل توسیع اور اس پر اعتماد بھی ہے ۔ ویزا کی سہولت، آسان کسٹم کلیئرنس، اور مسلسل بہتر کھپت کے منظرنامے ، ان ٹھوس پالیسی انتظامات نے سرحد پار سفر میں حائل ظاہر ی رکاوٹوں کو دور کر دیا ہے اور سرحد پار تبادلے کو چند لوگوں کے لیے مواقعوں سے عام لوگوں کے لیے قابل رسائی طرز زندگی کے انتخاب میں تبدیل کر دیا ہے۔
سیاحت کبھی بھی صرف سیر و تفریح کے لیے نہیں ہوتی۔ یہ افرادی و ثقافتی تبادلے کا سب سے متحرک ذریعہ بھی ہے۔ اسکرین کے ذریعے دیکھی جانے والی رپورٹس اور خیالات موازنہ کبھی بھی ذاتی تجربے کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ غیر ملکی سیاح چین کے شہر وں کی پرانی گلیوں میں ٹہلتے ہیں، عجائب گھروں کا دورہ کرتے ہیں، اور مقامی پکوانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو وہ کتابوں کے صفحات سے آگے ایک متحرک اور کثیر جہتی چین کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ چینی سیاح، بیرون ملک سفر کرتے ہوئے، دنیا کے مختلف حصوں میں عام چینی لوگوں کے نقطہ نظر اور انداز کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان براہ راست رابطہ “انفارمیشن کوکونز “کی وجہ سے پیدا ہونے والے تعصبات اور غلط فہمیوں کو ختم کر سکتا ہے اور لوگوں کے درمیان باہمی اعتماد کا سب سے بنیادی پل تعمیر کرسکتا ہے۔
معاشی اعداد و شمار یقینی طور پر کسی ملک کے کھلے پن کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، تاہم گولڈن ویک کی تعطیلات ہمیں بتاتی ہے کہ کھلا پن عام لوگوں کے سفر کے منصوبوں میں بھی پوشیدہ ہے۔ بہاؤ نہ صرف صارفین کی قوت کا مظہر ہے، بلکہ تہذیبوں کے درمیان باہمی سیکھ کا عمل بھی ہے۔ چین کا دروازہ وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے ۔ یہ کھلاپن نہ صرف تجارتی معاہدوں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں بلکہ قومی سرحدوں کو عبور کرنے والی روانگیوں اور آمد میں بھی ظاہرہوتا ہے۔
جب عام لوگ زیادہ آزادانہ طور پر سفر کر سکتے ہیں، اور مختلف تہذیبیں ایک دوسرے کو سمجھنے لگتی ہیں، تو یہ دو طرفہ تبادلہ بیرونی دنیا کے لیے چین کے کھلے پن کی سب سے زیادہ متاثر کن شکل ہے۔