لندن،واشنگٹن(انٹرنیشنل نیوز )آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز کو نامعلوم میزائیل سے نشانہ بنایا گیا ، جس کے بعد متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی ناکہ بندی کے دوران 44 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے بحری تجارتی نگرانی کے ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متاثرہ جہاز نے اطلاع دی کہ اسے ایک نامعلوم پروجیکٹائل آ کر لگا۔ادارے کے مطابق واقعہ عمان کے شہر الخصب سے تقریبا 20 ناٹیکل میل (تقریبا 37 کلومیٹر) شمال مشرق میں پیش آیا۔برطانوی بحری ادارے نے متاثرہ جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی فوری طور پر یہ بتایا کہ حملے سے جہاز کو کتنا نقصان پہنچا یا کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ حملے کی نوعیت، استعمال ہونے والے پروجیکٹائل اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
ایجنسی نے علاقے میں موجود تمام جہازوں کو احتیاط سے سفر کرنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز اور خلیج کے دیگر سمندری راستوں میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران خطے میں کئی بحری واقعات اور فوجی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی جہاز رانی پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
اس لیے یہاں پیش آنے والا کوئی بھی واقعہ عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور بحری سلامتی پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران کی ناکہ بندی کے دوران 44 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ 2 جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ 2 کیخلاف کارروائی کی گئی، امریکی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اقدامات ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کے آپریشن کا حصہ ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بحری کارروائیوں کے دوران متعدد تجارتی جہازوں کو متبادل راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔