صنعا(انٹرنیشنل نیوز) یمن کی نئی وزیر خارجہ افراح الزوبہ نے کہا ہے کہ حکومت حوثی گروہ کے ساتھ تنازع کا پرامن حل چاہتی ہے، تاہم اگر حوثی اشتعال انگیزی جاری رکھتے ہیں تو حکومت صورتحال میں مزید کشیدگی کےکےلئے بھی تیار ہے۔افراح الزوبہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا حکومت اور حوثیوں کے درمیان فی الحال کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، البتہ سلطنت عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حوثی گروہ باب المندب میں وہی حکمت عملی اپنانا چاہتا ہے جو ایران آبنائے ہرمز میں اختیار کئے ہوئے ہے یعنی اہم عالمی بحری گزرگاہ پر اثر و رسوخ اور جہاز رانی پر کنٹرول قائم کرنا ہے۔یمنی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں پر عالمی برادری کے غیر مثر ردعمل نے حوثیوں کے حوصلے مزید بڑھا دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حوثی جنگجوں اور سرکاری فورسز کے درمیان محاذوں پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، تاہم ان کے بقول ابھی تک کسی بڑے حملے یا باقاعدہ فوجی کارروائی کا آغاز نہیں ہوا۔افراح الزوبہ نے مزید دعوی کیا کہ حوثی ایران سے براہ راست پروازوں کی بحالی چاہتے ہیں تاکہ انہیں فوجی معاونت، افرادی قوت، مالی وسائل اور اسلحے کی فراہمی میں درپیش کمی کو پورا کیا جا سکے۔