واشنگٹن،تہران،کویت سٹی (انٹرنیشنل نیوز )امریکی افواج نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں مسلسل بارہویں روز بھی فضائی حملے کیے ، جن میں خوزستان، ہرمزگان اور بوشہر صوبے کے متعدد شہروں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اس نے جوابی اقدام کے طورپر کویت اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کئے ہیں جن میں متعدد اہم عسکری آلات اور دفاعی نظام تباہ کر دئیے گئے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب جنوب مغربی صوبہ خوزستان میں کم از کم 3 شہروں پر حملے کیے گئے، جن میں رامشیر بھی شامل ہے، جہاں ایک اسفالٹ پلانٹ کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔اس کے علاوہ اہواز سے ملحقہ علاقوں اور اہم بندرگاہی شہر ماہشہر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، یہ شہر آبنائے ہرمز پر اپنی اہم جغرافیائی حیثیت کے باعث خاص اہمیت رکھتا ہے۔بوشہر کے گورنر نے رات گئے ہونے والے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بوشہر جوہری بجلی گھر کے قریب واقع ایک بجلی کے سب سٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث شہر میں کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی۔
ایران کے مغربی سرحدی شہر شلمچہ میں عراق کی سرحد کے قریب امریکی میزائل حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، اس حوالے سے ایک مقامی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی میزائلوں نے شلمچہ میں مسافر ٹرمینل کے اطراف کے علاقے کو نشانہ بنایا۔گورنر خوزستان کے معاون برائے سکیورٹی، ولی اللہ حیاتی نے کہا ہے کہ گذشتہ شب امریکی حملوں کے دوران اہواز شہر کے نواح میں ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا۔انھوں نے حملے سے ہونے والے نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔گورنر خوزستان کے سکیورٹی امور کے معاون کے مطابق سڑکیں بنانے کے لیے استعمال ہونے والے اسفالٹ کو رامشیر شہر کے جس گودام میں ذخیرہ کیا گیا تھا، امریکی حملوں میں اسے بھی نشانہ بنایا گیا۔
ادھر ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق 27 جون سے اب تک ایران پر ہونے والے امریکی حملوں میں کم از کم 53 شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جنگ میں شدت آنے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی حملوں میں 590 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ امریکی سینٹرل کمان کے مطابق فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا تھا کہ کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کے فوجی اہداف پر مزید حملے شروع کئے ۔سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے شہری اور تجارتی جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ہے۔سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا، پاسداران انقلاب کی دھمکیوں اور حملوں کے باوجود یہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ جہاز رانی اور آمدورفت کے لیے بدستور کھلی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس نے رواں سال مئی کے آغاز سے اب تک آبنائے ہرمز کے ذریعے 900 سے زائد تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو ممکن بنایا ہے۔سینٹ کام نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے اور اس میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری ہے۔
اس دوران ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے 4 امریکی فوجیوں کی میتیں وطن پہنچا دی گئیں جہاں ڈوور ایئر فورس بیس پر ان کی منتقلی کی باوقار تقریب منعقد کی گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے شرکت کی اور شہید فوجیوں کے تابوتوں کو سلامی پیش کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اردن کے مواق السلطی ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک ہوئے جب کہ عراق کے شہر اربیل میں ایک علیحدہ حملے میں امریکی سارجنٹ مائیکل سوئنٹن جان کی بازی ہار گئے۔
دوسری جانب ہلاک ہونے والوں میں 25 سالہ ٹائلر فیہان، 28 سالہ سارجنٹ اینجل رامپرساد، 19 سالہ ازابیلا گونزالس اور سارجنٹ مائیکل سوئنٹن شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہ گیا کہ حالیہ حملوں کے بعد ایرانی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اس نے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کیے ہیں، یہ حملے واشنگٹن کے خلاف جوابی کارروائی ہیں، کویتی عوام کے خلاف نہیں ہیں۔پاسداران انقلاب کے مطابق علی السالم ایئربیس پر موجود فوجی ساز و سامان کے ایک بڑے گودام، پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، اور امریکی MQ-9 ڈرونز کے ایک ہینگر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
بیان میں مزید دعوی کیا گیا کہ العدیری بیرکس میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں اور دو ہیلی کاپٹر ہینگرز پر بھی حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو بھاری نقصان پہنچا۔آئی آر جی سی نے یہ بھی کہا کہ اس کے اہلکاروں نے ایران میں مواصلاتی ٹاورز پر امریکی حملوں کے جواب میں ایک مواصلاتی ٹاور کو بھی نشانہ بنایا۔پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کویتی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ایران نے نہیں بلکہ امریکا نے کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران کے حملوں کا ہدف صرف امریکی فوجی اڈے ہیں، جنہیں آئی آر جی سی نے ایسے علاقے قرار دیا جو بقول کویتی سرحدی محافظوں کے مثر کنٹرول سے باہر ہیں، اور جہاں امریکی فوج اپنی مرضی سے لوگوں، حتی کہ دیگر ممالک کے قیدیوں کو بھی لانے اور لے جانے کی آزادی رکھتی ہے۔آئی آر جی سی نے مزید کہا کہ لہذا آپ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہم نے نہیں بلکہ امریکا نے کی ہے، ہم ان علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن پر امریکی فوج قابض ہے، ایسی فوج جو ہمارے نزدیک جرائم کے سوا کچھ نہیں جانتی۔
ادھر کویت نے دعوی کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرون حملوں کا بروقت جواب دیتے ہوئے انہیں ناکام بنانے کے لیے کارروائی کی۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے مبینہ جارحیت کے بعد کی گئیں۔ کویتی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر متحرک ہے اور دشمن ڈرونز کو روکنے کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔
فوج نے واضح کیا کہ مختلف علاقوں میں سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملہ آور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں آئیں۔فوجی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور اپنی حفاظت کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔کویتی حکام نے حملوں کی مزید تفصیلات، ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات جاری نہیں کیں، تاہم صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
دریں اثنایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد اہم عسکری آلات اور دفاعی نظام تباہ کر دیے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران اردن میں موجود امریکی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ حملے میں امریکی تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے ریڈار، پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، سی ریم ریڈار اور ایک ہیلی کاپٹر ہینگر کو تباہ کر دیا گیا۔ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کی گئی، تاہم بیان میں حملے کے وقت، مقام یا ممکنہ جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ادھر امریکی حکام یا اردن کی حکومت کی جانب سے فوری طور پر ایران کے اس دعوے کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ ادھر ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکا نے قطر میں قائم العدید ائیر بیس کو مکمل طور پر خالی کر دیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز جاری ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں ائیر بیس پر موجود امریکی طیاروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی اور پھر اڈہ مکمل طور پر خالی کر دیا گیا۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر اڈے پر موجود امریکی طیاروں کی تعداد 17 سے کم ہو کر 3 رہ گئی تھی جس کے بعد باقی ماندہ طیارے بھی واپس بلا لیے گئے اور بیس کو مکمل طور پر خالی کر دیا گیا۔