لاہور (ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے کرپشن کی انکوائریوں کاسامنا کرنے والے گروپس کے وائٹ پیپرسے پہلے گرین پیپر جاری کر دیا ۔ دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پانچ میں سے تین گروپوں نے اظہار علیحدگی کرتے ہوئے بائیکاٹ کر دیا۔ترجمان نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں جو گروپس رہ گئے ہیں ان کے خلاف اربوں روپے کی انکوائریاں اور قانون کے مطابق ڈسپلنری کارروائیاں چل رہی ہیں جس سے بچنے کے لئے وہ انتظامیہ پر دباو ڈالنا چاہ رہے ہیں۔
گرین پیپر کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان پنجاب یونیورسٹی نے کہا کہ وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد علی کی قیادت میں مالی نظم و نسق اور گڈ گورننس کے اقدامات کے مثبت نتائج کے سلسلے میں یونیورسٹی کی مجموعی آمدن7 ارب 15کروڑسے بڑھ کر 12 ارب 56 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ ڈگری کی بندش، امیدواروں میں نمایاں کمی کے باوجود یونیورسٹی کی آمدن میں تاریخی اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے پرائیوٹ امیدوار 1 لاکھ 92 ہزار سے کم ہو کر گزشتہ سال 35 ہزار رہ گئے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ پنجاب یونیورسٹی کے بجٹ خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ بجٹ خسارہ 2 ارب 86 کروڑ سے کم ہو کر 1 ارب 67 کروڑ روپے رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری اور شفافیت کی پالیسی سے مالی خسارہ کم کرنے میں کامیاب ہوئے اور بہترین مالیاتی نظم و نسق سے ذخائر کے استعمال میں نمایاں کمی ہوئی۔ ترجمان کا کہنا تھاکہ2024 میں پنجاب یونیورسٹی کے ذخائرسے 4 ارب 19 کروڑ روپے خرچ ہوئے اور2025ـ26 میں ذخائر میں سے صرف 2 ارب 57 کروڑ روپے خرچ کئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نے 2 ارب 30 کروڑ روپے ری انویسٹ کئے،اخراجات اورمہنگائی میں اضافے کے باعث یہ ذخائر 2024 ء کی مناسبت سے 8 ارب ہو جاتے ۔انہوں نے کہا کہ موثر فنانشل کنٹرول سے یونیورسٹی کو اربوں کی بچت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام اور سولر منصوبوں سے 50 لاکھ یونٹس بجلی کی بچت ہوئی جس سے یونیورسٹی کو 28 کروڑ 60 لاکھ روپے کا مالی فائدہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ ون اکاؤنٹ پالیسی کے نفاذ سے اخراجات میں پہلی مرتبہ مکمل شفافیت یقینی بنائی گئی۔انہوںنے کہا کہ پہلی مرتبہ دہائیوں سے پرانے کرایوں پر چلنے والی کینٹینوں اوردکانوں کی نیلامی سے یونیورسٹی آمدن میں 16کروڑ کا اضافہ ہوا۔انہوںنے کہاکہ پنجاب یونیورسٹی میں گڈ گورننس ماڈل کے تحت وسیع انتظامی اصلاحات نافذ ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ ون مین ۔
ون پوسٹ پالیسی کے تحت اختیارات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کے پاس متعددانتظامی عہدوں کا نظام ختم، نئی پالیسی نافذ کی گئی اورصدور شعبہ جات کی روٹیشن پالیسی پر پہلی مرتبہ بلاامتیاز عملدرآمد ہوا۔انہوں نے کہا کہ روٹیشن پالیسی سے تمام اساتذہ کو یکساں قیادت کے مواقع فراہم کیے گئے۔ترجمان نے کہا کہ ہاسٹلز سے غیر قانونی قبضے تاریخ میں پہلی مرتبہ مکمل طور پر ختم ہوئے جبکہ پنجاب یونیورسٹی کی اربوں روپے کی زمینوں پر 50 سال پرانے قبضے واگزار کرائے گئے۔