ڈھاکہ (انٹرنیشنل نیوز)بنگلا دیش حکومت نے معزول سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے وطن واپس آنے کے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قانون کا سامنا کرنا ہو گا، تاہم عدالت سزائے موت کے فیصلے پر نظرِ ثانی یا انہیں بری بھی کر سکتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے شیخ حسینہ واجد کے قریبی ذرائع نے بتایا تھا کہ وہ اپنی جماعت عوامی لیگ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے رواں سال کے اختتام تک رضاکارانہ طور پر ڈھاکا واپس آنے کی تیاری کر رہی ہیں۔78 سالہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں حکومت مخالف احتجاج کے نتیجے میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلا دیش چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں، جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی پر ردِعمل دیتے ہوئے بنگلا دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمن کے مشیر زاہد الرحمن نے کہا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کو چاہیے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے دنیا کے بہترین وکلا کو ساتھ لائیں تاکہ وہ 2024 کے طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کا عدالت میں سامنا کر سکیں۔
میڈیا بریفنگ کے دوران زاہد الرحمن نے کہا کہ ہم ان کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ ہم انصاف کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام چاہتے ہیں کہ ان کے جرائم پر سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی جائے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو عوام کی خواہش کے مطابق اس سزا پر عمل درآمد بھی کیا جائے گا۔بنگلا دیشی وزیرِ اعظم کے مشیر کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کے بہترین وکلا لے آئیں، انہیں مکمل موقع دیا جائے گا، انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل(بنگلا دیش)میں کارروائی شفاف انداز میں ہو گی، جس کی نگرانی مبصرین بھی کر سکیں گے جبکہ عدالتی کارروائی کی ویڈیو کوریج بھی ممکن ہو گی۔
زاہد الرحمن نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ عدالت شیخ حسینہ کے خلاف سنائے گئے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے یا انہیں بری قرار دے۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت شیخ حسینہ واجد کی ممکنہ واپسی کے حوالے سے کسی قسم کے دبا ﺅکا شکار نہیں۔زاہد الرحمن نے کہا کہ ماضی میں بھی عوامی لیگ کے دورِ حکومت میں 2010 میں قائم ہونے والے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کے بعض فیصلے معطل یا کالعدم قرار دیے جا چکے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قانونی طریقہ کار شیخ حسینہ کی واپسی میں رکاوٹ نہیں بنے گا اور بھارت ڈھاکا سے مشاورت کے بعد ان کی واپسی کے انتظامات کر سکتا ہے۔دوسری جانب بھارت نے شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی کے منصوبے پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے محتاط ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر ہمارا موقف پہلے جیسا ہی ہے، حوالگی سے متعلق کوئی بھی درخواست قانونی نوعیت کا معاملہ ہے اور اس سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔