لاہور( نیوز ڈیسک)آرگینک خوراک اور مصنوعات پر ریسرچ کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے پنجاب حکومت سے زراعت کی ترقی کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں کا کم از کم 20 فیصد حصہ آرگینک زراعت کے فروغ سے مشروط کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر سکیم، بلا سود زرعی قرضوں، زرعی مشینری، ماڈل ایگری مالز اور دیگر حکومتی سہولتوں میں آرگینک کاشتکاروں کے لیے خصوصی کوٹہ مختص کیا جائے تاکہ وہ بھی ان مراعات سے استفادہ کر سکیں۔
اپنے بیان میں نجم مزاری نے کہا کہ آرگینک فارمنگ زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے، پانی کی آلودگی میں کمی لانے، زرعی لاگت کم کرنے اور عوام کو صحت مند و محفوظ خوراک فراہم کرنے کا مثر ذریعہ ہے، اس لیے حکومت کو اس شعبے کو قومی زرعی پالیسی کا اہم حصہ بنانا چاہیے۔انہوں نے تجویز دی کہ آرگینک کھاد، بائیو فرٹیلائزرز، قدرتی طریقہ انسدادِ کیڑے اور ماحول دوست زرعی ٹیکنالوجی کو بھی حکومتی سبسڈی پروگرام کا حصہ بنایا جائے تاکہ کسان کیمیائی کھادوں اور زرعی زہروں پر انحصار کم کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید آبپاشی نظام، سپر سیڈرز، لیزر لینڈ لیولرز، زرعی مشینری اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں آرگینک فارمز کو ترجیح دی جائے، جبکہ ایگری گریجویٹس کی تربیت میں آرگینک زراعت، قدرتی مٹی کی بحالی اور پائیدار کاشتکاری سے متعلق مضامین کو بھی شامل کیا جائے۔نجم مزاری نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت اپنے جاری زرعی منصوبوں اور مالی وسائل کا صرف 20 فیصد بھی آرگینک زراعت کے فروغ کے لیے مختص کر دے تو نہ صرف صوبے میں محفوظ خوراک کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کی آمدنی بڑھے گی، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کی آرگینک زرعی مصنوعات عالمی منڈی میں بہتر مقام حاصل کر سکیں گی۔