حزب اللہ

اسرائیل کے پاس لبنانی سرزمین سے مکمل انخلا کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، حزب اللہ

بیروت(انٹرنیشنل نیوز )حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ طے شدہ وقت کے مطابق لبنانی سرزمین سے مکمل طور پر انخلا کرے۔

غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کے بدلے اسرائیل کو لبنان کے تمام مقبوضہ علاقوں سے نکلنا ہوگا۔نعیم قاسم نے مزید کہا اس وقت جنگ بندی نافذ ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو مکمل پسپائی اختیار کرنا ہوگی اور وہ لبنان کی سرزمین کا ایک انچ بھی اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے پائیدار اور مثر رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل طے شدہ شرائط کے مطابق مکمل انخلا کرے اور لبنانی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے ممکنہ معاہدے میں اسرائیل-لبنان مذاکرات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

عرب میڈیا رپورٹ کہا ہے کہ امریکا یہ حقیقت تسلیم کرتا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان تنازع شاید ایران کے ساتھ پرامن حل اور سفارتی پیش رفت کے لئے واحد یا فیصلہ کن عنصر نہ ہو، تاہم یہ اہم مسئلہ ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ کسی بھی پائیدار امن معاہدے کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کوششوں کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں، اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ حزب اللہ ہے۔

مذاکرات کے ابتدائی دور ہی سے یہ واضح رہا ہے کہ حزب اللہ کی شمولیت اور اس کی رضامندی کے بغیر کسی بھی ممکنہ سمجھوتے یا مجوزہ فریم ورک پر مثر عمل درآمد کی ضمانت دینا ممکن نہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حزب اللہ اس عمل کا حصہ نہ بنی تو مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے کسی بھی معاہدے کی عملی حیثیت اور پائیداری پر سنجیدہ سوالات برقرار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں