کراچی (کورٹ نیوز)سندھ ہائیکورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی)کے امتحانی نتائج کے خلاف دائر مختلف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزاروں کی امتحانی کاپیاں اور متعلقہ ریکارڈ سیل کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کراچی میں ہونےوالی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا ۔عدالت عالیہ نے سیشن جج حیدرآباد کو حکم دیا ہے کہ وہ سندھ پبلک سروس کمیشن سے امیدواروں کے تحریری امتحانی پرچے حاصل کریں اور تمام ریکارڈ کو سیل کر کے آئندہ سماعت پر عدالتی نمائندے کے ذریعے پیش کریں۔عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام ریکارڈ بعد میں عدالت کی جانب سے مقرر کردہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں ہی ڈی سیل کیا جائے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق موجودہ تنازع کمبائنڈ کمپی ٹیٹو ایگزامنیشن (سی سی ای) 2024 کے نتائج سے متعلق ہے۔درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ انہیں انتہائی کمزور اور غیر معقول بنیادوں پر امتحانات میں ناکام قرار دیا گیا،اس لئے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کےلئے ضروری ہے کہ درخواست گزاروں کے جوابی پرچے عدالتی اسکروٹنی کےلئے پیش کیے جائیں۔دوسری جانب سندھ پبلک سروس کمیشن نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ تمام امیدواروں کو میرٹ پر ناکام قرار دیا گیا ہے اور نتائج میں کسی قسم کی بدنیتی کا عنصر موجود نہیں ہے۔
دورانِ سماعت سندھ ہائیکورٹ نے مزید دو امیدواروں کی کیس میں فریق بننے کی درخواست بھی منظور کر لی۔ عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن، متعلقہ حکام اور ایڈووکیٹ جنرل کو کارروائی میں مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ہائیکورٹ کے ایم آئی ٹی ٹو کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔