اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے میثاقِ جمہوریت و معیشت کیلئے ا پوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، ملک کو مستحکم کرنا مشترکہ ذمہ داری ہے، صوبوں کےلئے معاشی وسائل ان کا حق ہے، این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ 100 فیصد بڑھا دیا ہے ، چاروں صوبوں کی یکساں ترقی بطور وزیراعظم میری ذمے د اری ہے ،ہمیں مل کر اپنے شہدا کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہئے، شہدا کا احترام نہیں کریں گے تودنیا ہمارے بارے میں کیا سوچے گی، دہشتگردی کےخلاف غفلت پرقوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
ان خیالات کااظہار وزیر اعظم نے ہفتہ کو قومی اسمبلی کے بجٹ کے حوالے سے جاری اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ شہباز شریف نے کہا کہ تمام معززممبران قابل احترام ہیں، ایوان میں چاروں صوبوں سے ممبران منتخب ہوکر آئے ہیں، سب کی سیاست،وژن اورخیالات اپنے اپنے ہیں۔انہوں نے اپوزیشن کو ایک بار پھر بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اراکین ہمارے بھائی ہیں ان سے کوئی لڑائی نہیں، کئی بار کہا کہ آئیں میثاق معیشت اورمیثاق جمہوریت کی طرف بڑھیں، آج بھی کہتا ہوں دیر نہیں ہوئی میں بیٹھنے کیلئے تیار ہوں، میں قدم بڑھانے کو تیار ہوں، آپ بھی آگے آئیں۔شہباز شریف نے اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس تقریر کو غور سے سنا ہے، تاہم اس کا تفصیلی جواب وہ اس وقت نہیں دیں گے اور مناسب موقع پر اپنا موقف پیش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہے تو یہ ہم ہیں اور یہ معزز ایوان ہے، پاکستان کیلئے جو بھی قربانی دی جائے وہ کم ہے، صوبوں کیلئے معاشی وسائل ان کاحق ہے، بلوچستان پاکستان کا بہت خوبصورت صوبہ ہے، بلوچستان میں غیوراوردلیرعوام بستے ہیں، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ 100فیصد بڑھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان کے عوام پر کوئی احسان نہیں تھا، بلوچستان کے این ایف سی کیلئے تمام صوبوں نے کردار ادا کیا، سب سے زیادہ حصہ پنجاب نے دیا، بلوچستان کے کسانوں کواربوں روپے کے سولرپینلزدیئے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کی مثال لے لیں، اس کا معاہدہ پڑھ لیں، ریکوڈک پر بلوچستان کے عوام کے شیئرز روشن مثال ہیں، بلوچستان کے عوام کے شیئرز چھپا ہوا راز نہیں ، سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گوادر سے چمن تک روڈ بن رہی ہے جوہائی و ے کے معیارکے مطابق ہے اور اس شاہراہ کی تعمیر پر300 ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ برابری اورانصاف کے بغیر تو گھر نہیں چلتا، چاروں صوبوں کی یکساں ترقی بطور وزیراعظم میری ذمے د اری ہے، میثاق جمہوریت کے لیے میں نے ایک سے زائد بار کہا ہے، پاکستان کے لیے جو بھی قربانی دی جائے وہ کم ہے ، اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ صوبے کے معاشی وسائل ان کا حق ہیں، کوئی دورائے اوراختلاف نہیں۔
وزیر اعظم نے کہا چند دن قبل ہیلی کاپٹرحادثہ میں افواج کےافسران اورجوان شہید ہوئے، بلوچستان میں دہشت گردی ہورہی ہے، بلوچستان میں خوارجیوں کوتکنیکی مددفراہم کی جارہی ہے، سب جانتے ہیں دہشتگردی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو مدد فراہم کی جارہی ہے، گوادرسے چمن تک شاہراہ کی تعمیر میں 300ارب روپے سے زائد خرچ کیا جارہا ہے، خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گردی ہورہی ہے،دہشتگردی کےخلاف جنگ میں سکیورٹی فورسزکےافسران اورجوان شہید ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہدا قوم کے کروڑوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچاتے ہیں، ہمیں مل کر اپنے شہدا کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہئے، شہدا کا احترام نہیں کریں گے تودنیا ہمارے بارے میں کیا سوچے گی، دہشتگردی کےخلاف غفلت پرقوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔