لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب کے سابق گورنر چوہدری محمدسرورنے کہا ہے کہ مہنگا پٹرول جلتا ہے تو کئی چولہے اورانسانوں کی زندگی کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔مہنگائی کاسیلاب ناداروں اورمحتاجوں کواپنے ساتھ بہا لے جارہاہے۔زندگی بچانے والی ادویات بھی عام آدمی کی دسترس سے دور چلی گئی ہیں۔ اگر ریاست واقعی ماں جیسی ہوتی تو اشرافیہ کی مراعات کا بوجھ عوام کو برداشت نہ کرنا پڑتا۔ حکمران اشرافیہ اور عام آدمی کے طرز زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے،حکومت شمسی توانائی پرٹیکس عائدکرنے کاجوازنہیں رکھتی ۔وہ ڈیوائن گارڈن میں اپنے آفس میں مختلف وفود سے بات چیت کررہے تھے ۔
چوہدری محمدسرور نے مزید کہاکہ حکمرانوں کے ناقص معاشی فیصلے ان کے اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھا رہے ہیں، جہاں بیچارے عام آدمی کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں وہ بے لگام خواہشات کے پیچھے دوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔مخصوص طبقات کی عیش وعشرت اورامارت نے حکومت کوعوام کے اعتماد سے محروم کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم میں سے کوئی بھی اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی ختم کرنیوالے مرد و زن کی محرومی اور مایوسی کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔اگرعوام کوان کے بنیادی حقوق نہ ملے توان کے صبر کاپیمانہ کسی وقت بھی چھلک سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی ہوشربا قیمت نے عوام کی مت مار دی ہے۔ عوام کے احساس محرومی کو بدترین مایوسی میں تبدیل نہ کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ تلاش روزگار میں دربدر بھٹکنے والے عوام کا ریاست اور سیاست سے بیزار ہونا فطری ہے۔ نوجوانوں کا معاش کیلئے مادر وطن سے ہجرت کرنا اور سمندروں یا جنگلوں میں جام شہادت نوش کرنا قومی سانحہ اور ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے معیشت دان عوام کی بجائے آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے نگہبان بنے ہوئے ہیں۔