طالبان رجیم

طالبان رجیم کی نااہلی اور ہٹ دھرمی، افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید ہوگیا

کابل (انٹرنیشنل نیوز )طالبان رجیم کی نااہلی اور ہٹ دھرمی کے نتیجے میں افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔افغانستان میں جاری معاشی بحران، غربت اور غذائی قلت نے شہریوں کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے ۔ طالبان رجیم کی ناکام اور سخت پالیسیوں کے باعث ملک سیاسی، اقتصادی اور انسانی مسائل کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے افغانستان کو عالمی تنہائی کی جانب دھکیل دیا ہے جب کہ مقامی سطح پر بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ناروے کی ریفیوجی کونسل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔

ملک کی تقریبا آدھی آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے معاشی مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی نے لاکھوں افغان شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ طالبان رجیم کے دوران 400 سے زائد صحت کے ادارے بند ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بنیادی طبی سہولیات اور علاج سے محروم ہو گئے ہیں۔ افغانستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔

ریفیوجی کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان رجیم کی جانب سے خواتین پر عائد سخت پابندیوں نے افغان معاشرے کے آدھے حصے کو عملی طور پر نظام سے باہر کر دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور معاشی ڈھانچہ، طالبان رجیم کی ناکامی اور نااہلی نے افغان عوام کو مکمل طور پر عالمی امداد کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ افغانستان ایک دہشت گرد گروہ کے قبضے میں ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں سیاسی، اقتصادی، انسانی اور سیکیورٹی بحران میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں