فرینچ فرائز

فرینچ فرائز شوگر کا خطرہ بڑھاتے ہیں‘ 40 سالہ تحقیق کا چونکا دینے والا انکشاف

لندن (نیٹ نیوز) ایک نئی طویل المدتی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فرینچ فرائز کا باقاعدگی سے استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جبکہ آلو کو دیگر روایتی طریقوں سے پکانے پر ایسا کوئی خطرہ سامنے نہیں آیا۔غذائیت کی دنیا میں آلو کو ہمیشہ ملے جلے ردعمل کا سامنا رہا ہے۔

ایک طرف تو یہ فائبر، وٹامن سی اور میگنیشیم جیسی اہم غذائیت فراہم کرتا ہے، لیکن دوسری جانب اس میں نشاستہ زیادہ ہوتا ہے اور یہ خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔برسوں تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ آلو کی ہر ڈش ذیابیطس یعنی شوگر کے مرض کا باعث بنتی ہے لیکن اب اس نئی اور وسیع تحقیق نے اس حوالے سے ایک اہم حقیقت سامنے لائی ہے۔طبی جریدے دی بی ایم جے میں شائع ہونے والی تحقیق میں 1984 سے 2021 کے درمیان دو لاکھ پانچ ہزار سے زائد افراد کی غذائی عادات اور صحت کا جائزہ لیا۔

تحقیق کے آغاز میں ان افراد کو ذیابیطس، دل کی بیماری یا کینسر نہیں تھا۔ لگ بھگ چالیس سال کے اس عرصے کے دوران 22 ہزار سے زیادہ افراد میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص ہوئی۔اس مطالعے کے نتائج کے مطابق جو لوگ ہفتے میں تین بار فرینچ فرائیز یعنی آلو کے چپس کھاتے ہیں، ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بیس فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اس کے برعکس ابلے ہوئے، بیک کیے گئے یا میشڈ آلو کھانے والوں میں بیماری کے خطرے میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں دیکھا گیا۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب آلو کو گرم تیل میں ڈپ فرائی کیا جاتا ہے تو اس میں غیر صحت بخش چکنائی شامل ہو جاتی ہے اور کیلوریز بڑھ جاتی ہیں، جو انسولین کے نظام کو متاثر کر کے شوگر کا باعث بنتی ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ آلو کی جگہ آپ جو دوسری غذا استعمال کرتے ہیں، اس کا بھی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آپ فرینچ فرائیز کی جگہ سالم اناج والی غذائیں جیسے دلیہ یا بران چاول کا استعمال شروع کر دیں تو شوگر کا خطرہ انیس فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔اسی طرح ابلے یا بیک کیے ہوئے آلو کی جگہ سالم اناج کھانے سے بھی یہ خطرہ چار فیصد تک کم ہوتا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ابلے یا بیک کیے ہوئے آلو کی جگہ سفید چاول کھائے جائیں تو اس سے شوگر کا خطرہ کم ہونے کے بجائے بڑھ جاتا ہے۔صحت مند رہنے کے لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ بازار کی فرینچ فرائیز یا آلو کے چپس سے مکمل پرہیز کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں