اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں قیام امن کیلئے بہترین اور مخلصانہ کردار ادا کر رہا ہے ، جسے امریکی قیادت نے بھی سراہا ہے۔ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی نے کہا کہ مشرق وسطی میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جبکہ وزیراعظم کی کویت کے ولی عہد اور ملائیشیا کے وزیراعظم سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔ترجمان نے یورپی یونین کی اعلی نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی کایا کالاس کے حالیہ دور پاکستان کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کایا کالاس اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی اعلی نمائندہ نے اپنے دورے کے دوران پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں بھی کیں، جن میں دوطرفہ تعاون، علاقائی صورتحال اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کی دعوت پر سرکاری دورہ کیا، جہاں انہوں نے چینی صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے ہانگژو میں منعقدہ پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کانفرنس میں بھی شرکت کی۔انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بیجنگ کے دورے کے بعد نیویارک گئے، انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی اور مختلف عالمی رہنماں سے ملاقاتیں کیں۔
ترجمان کے مطابق 29 مئی کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی، جس میں پاک امریکا دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کے مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مارکو روبیو نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس کی صورتحال پر مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل کی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام اور فلسطین کاز کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور مشرق وسطی میں امن و استحکام کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس کی جانب موڑنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں سلال ڈیم کی ڈی سلٹنگ کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 1978 کے سلال معاہدے کے تحت ڈیم کی ڈی سلٹنگ کی اجازت نہیں، بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غذائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش سے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے،سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریاں کے پانی کے بلا روک ٹوک استعمال کا حق حاصل ہے۔طاہر اندرابی نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سلال ڈیم کی ڈی سلٹنگ کے حوالے سے پاکستان کو پیشگی آگاہ نہیں کیا، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی شخصیت کا مقبوضہ کشمیر کا دورہ خطے کی قانونی اور سیاسی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ پاکستان، بھارت میں تعینات سوئس سفیر کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے معاملے پر سوئس حکام سے رابطے میں ہے اور اپنی تشویش سے انہیں آگاہ کر رہا ہے۔