ایران

امریکا سے مذاکرات، ایران کا لبنان سمیت تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ

تہران(انٹرنیشنل نیوز )ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کےلئے لبنا ن سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ کر دیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنائے ہوئے ہے اور مذاکرات سے متعلق تفصیلات مجاز حکام کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔ایرانی خبررساںادارے کے مطابق اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سنجیدگی اور نیک نیتی مگر ٹھوس منطقی شکوک وشبہات کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنایا جارہا ہے۔

لیکن ماضی کے تجربات کے باعث کچھ تحفظات اب بھی موجود ہیں۔ نہوں نے کہا کہ ایران تمام محاذوں پرجنگ کاخاتمہ، منجمد اثاثوں کا اجرا،ایرانی جہازوں کیخلاف بحری قزاقی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق جوہری معاملات پر قیاس آرائیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا سے مذاکرات کا محور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کو ختم کرنے پر ہے۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی تفصیلات مجاز حکام اور مذاکراتی ٹیم کے ترجمان فراہم کریں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق ایران خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے، بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی بحالی اور سمندری راستوں پر ایرانی جہازوں کے تحفظ کو مذاکرات کا بنیادی حصہ بنانا چاہتا ہے۔ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے بھیجے گئے حالیہ پیغامات سے دونوں ممالک کے درمیان بعض معاملات پر فاصلے کم ہوئے ہیں تاہم اعتماد کی فضا اب بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تاحال کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں کچھ حد تک کمی ضرور آئی ہے۔عہدیدار کے مطابق یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز پر تہران کے کنٹرول سے متعلق معاملات اب بھی اہم رکاوٹیں تصور کیے جا رہے ہیں، مذاکراتی عمل جاری ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاہم حساس معاملات پر حتمی پیش رفت ابھی باقی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں