لاہور ہائیکورٹ

اپ گریڈیشن کسی ملازم کا قانونی یا موروثی حق نہیں،لاہور ہائیکورٹ کا سرکاری ملازمین کی ترقیوں کے کیس میں تحریری فیصلہ جاری

لاہور(کورٹ نیوز )لاہور ہائیکورٹ میں سرکاری ملازمین کی ترقیوں کے کیس میں جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے تحریری فیصلہ جاری کردیا ،سات صفحات کا فیصلہ عدالتی نظیر قراردیاگیاہے۔فیصلے میں کہاگیاہے کہ اپ گریڈیشن کسی ملازم کا قانونی یا موروثی حق نہیں ہے، پوسٹ اپ گریڈیشن کا معاملہ خالصتا انتظامی پالیسی اور ایگزیکٹو اتھارٹی کا اختیار ہے،صرف کام کی نوعیت ایک جیسی ہونے سے کوئی ملازم اپ گریڈیشن کا حقدار نہیں بن جاتا۔

فیصلے کے مطابق اپ گریڈیشن کا تعلق عہدے سے ہے، اس پر تعینات فرد سے نہیں،سروس کیڈرز کی تشکیل اور تنخواہوں کے سکیل کا تعین کرنا حکومت کا کام ہے،درخواست گزار اپنے عہدے کو اپ گریڈ شدہ منسٹریل کیڈر کا حصہ ثابت کرنے میں ناکام رہا،محض عہدوں کی مماثلت پر ایگزیکٹو کے پالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کی جا سکتی ۔ فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوی سلوک کا حق صرف قانونی طور پر برابر عہدوں کےلئے ہے۔

عدالت نے سرکاری ملازم کی محمد منیر کی رٹ پٹیشن میرٹ پر پورا نہ اترنے کی بنا پر خارج کر دی،درخواست گزار نے گریڈ 7 سے 14 میں اپ گریڈیشن نہ ملنے کے اقدام کو چیلنج کیا تھا،عدالت نے درخواست گزار کے خلاف دیئے گئے محکمے کے تمام سابقہ احکامات کو برقرار رکھاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں