آئی ایم ایف

آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹ، پاکستانی معیشت میں بہتری کا اعتراف،مشرق وسطی جنگ خطرہ قرار

اسلام آباد(کامرس ڈیسک)عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف ) نے اعتراف کیا ہے کہ مضبوط پالیسی اقدامات کے تسلسل نے پاکستان کی معاشی بحالی کو نہ صرف سہارا دیا بلکہ معیشت کی بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں مزاحمت کو مضبوط کیا تاہم مشرق وسطی میں جاری جنگ کو پاکستان کےلئے ایک بڑا بیرونی خطرہ قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ پاکستان کو کاروباری اور پیداواری شعبے میں مسابقت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ طویل المدتی معاشی نمو ممکن ہو سکے جبکہ پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد کردیں، مالی سال 2027 کے بجٹ میں گیس اور بجلی کے نرخ شامل ہیں۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے قرض پروگرام کی نئی قسط جاری کرنے کے بعد توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تیسرے جائزے اور لچک و پائیداری سہولت کے دوسرے جائزے کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو بہتر رہی۔آئی ایم ایف نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک شرح نمو 3.6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ مہنگائی کی اوسط شرح 7.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

فنڈ کے مطابق اسٹیٹ بینک کی بروقت اور سخت مانیٹری پالیسی نے افراطِ زر کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کرنٹ اکاﺅنٹ مجموعی طور پر متوازن رہا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی توقع سے زیادہ بہتری آئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذخائر دسمبر کے آخر تک 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جبکہ آئندہ مہینوں میں یہ 17.5 ارب ڈالر تک جا سکتے ہیں۔تاہم آئی ایم ایف نے مشرق وسطی میں جاری جنگ کو پاکستان کے لیے ایک بڑا بیرونی خطرہ قرار دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تنازع نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا جس کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف درآمدی بل بڑھا بلکہ مہنگائی پر بھی دبا آیا جس سے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوئی۔ اگرچہ بنیادی منظرنامے میں ان اثرات کو محدود قرار دیا گیا ہے لیکن منفی خطرات بدستور موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 73.8 فیصد تک رہ سکتا ہے۔ مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے مساوی پرائمری سرپلس حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جو مالی نظم و ضبط کی بہتری کا اشارہ ہے۔آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو کاروباری اور پیداواری شعبے میں مسابقت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ طویل المدتی معاشی نمو ممکن ہو سکے۔

فارن ایکسچینج مارکیٹ میں مزید اصلاحات، بینکوں کا مناسب سرمایہ برقرار رکھنا اور زرمبادلہ ذخائر کی بحالی کا تسلسل برقرار رکھنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی(آر ایس ایف) پروگرام کا بھی ذکر کیا گیا جس کے تحت پاکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی خطرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔آئی ایم ایف نے پانی کے موثر استعمال، موسمیاتی نگرانی کے نظام کی بہتری اور وفاق و صوبوں کے درمیان بہتر رابطے کو کلائمیٹ ریزیلینس کے لئے ناگزیر قرار دیا ہے۔مجموعی طور پر آئی ایم ایف نے تسلیم کیا ہے کہ مضبوط پالیسیوں کے تسلسل نے پاکستان کی اقتصادی بحالی کو سہارا دیا ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے تاہم بدلتی عالمی صورتحال کے پیش نظر محتاط حکمت عملی اور اصلاحات کا عمل جاری رکھنا ناگزیر ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق گیس ٹیرف میں جولائی 2026 اور فروری 2027 میں تبدیلی ہوگی، بجلی کے نرخ جنوری 2027 میں ایڈجسٹ کئے جائیں گے، نیب کو مزید خودمختار اور شفاف بنانے کی شرط بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط 55 ہوگئیں، نئی شرائط کا مقصد بجٹ نظم و ضبط، ٹیکس نظام اور معیشت کی بہتری ہے۔ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 1727 ارب روپے وصول کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

گیس ٹیرف اور بجلی نرخوں میں اضافے کا پلان بھی زیر غور ہے۔رپورٹ کے مطابق شوگر،سیمنٹ، تمباکو اورکھاد کے شعبوں میں 160 ارب روپے کی ٹیکس چوری یا ٹیکس گیپ موجود ہے،جس کے بعد ان شعبوں میں نگرانی کا نظام نافذ کردیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے نیا نظام متعارف کرا رہا ہے، جبکہ بڑے ٹیکس چوروں کی نشاندہی سی آر ایم سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔ ایف بی آر نے 431 نئے آڈیٹرز بھرتی کرلیے ہیں جبکہ مزید 396 افسران جون تک شامل کیے جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق سخت آڈٹ نظام سے 2027 میں 92 ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے،جبکہ تمام سیلز ٹیکس دہندگان کےلئے ڈیجیٹل انوائسنگ لازمی قرار دے دی گئی ہے، جس سے 46 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کو بتایاگیاکہ ٹیکس چوری روکنے کے لئے ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں کی پیداوار کی نگرانی کی جائےگی اور ٹیکسٹائل وبیوریجزسیکٹراکتوبر 2026 تک مکمل نگرانی میں آجائیں گے،ایف بی آر آڈٹ نظام کو عالمی معیار کےمطابق مزیدسخت کیاجائےگاجبکہ ہائی رسک ٹیکس کیسزکی مرکزی سطح پر نگرانی ہوگی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زرعی آمدن ٹیکس ہدف سے کم رہا کیونکہ نئی شرحوں کے نفاذمیں مشکلات اور تاخیرکاسامنا کرنا پڑا،تاہم ایف بی آر نے صوبوں کو انکم ٹیکس معلومات فراہم کرنا شروع کردی ہیں تاکہ مالی سال 2027 میں صوبے ٹیکس وصولی بہتر بنا سکیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق صوبائی ٹیکس آمدن میں جی ڈی پی سے زیادہ رفتار سے اضافہ ہوا جبکہ سروسز پر جی ایس ٹی اور سخت نگرانی سے ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے۔دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں 7413 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1043 ارب روپے، سیلز ٹیکس سے 4727 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی سے 1651 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں