کراچی(نیوز ڈیسک )سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے یہ واضح تھا کہ عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئی ہیں لیکن حکومت نے بڑھا دی، حکومت صاف کہتی کہ ٹیکس بڑھایا اسے عالمی قیمتوں سے کیوں جوڑ رہی ہے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا ایران جنگ شروع ہونے کے بعد حکومت نے ہفتہ وار قیمتوں کے اعلان کا فیصلہ کیا تو ایک سے زیادہ بار حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ محمد زبیر نے کہا کہ حکومت صاف کہتی کہ ٹیکس بڑھایا اسے عالمی قیمتوں سے کیوں جوڑ رہی ہے، حکومت نے ڈیزل کی قیمت کو غلط فارمولا استعمال کرکے بہت زیادہ بڑھا دی تھیں، ڈیزل کی زیادہ قیمت بڑھانے پر زیادہ تنقید ہوئی تو وزیراعظم خود آئے اور 36روپےاضافہ واپس لیا، حکومت نے ایک بار پیٹرولیم لیوی 80روپے بڑھائی پھر وزیراعظم آئے اور80روپے واپس لئے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں پیٹرول کی قیمت جنگ سے پہلے والی سطح پر ہے بنگلادیش میں 16فیصد ،سری لنکا میں38فیصد پیٹرول کی قیمت بڑھی، افغانستان میں 30فیصد اور پاکستان میں 61فیصد پیٹرول مہنگا کردیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مشیرخزانہ خرم شہزاد نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے اگر ہمارا جہاز گزر رہا ہے تو کیا پیٹرول پچھلی قیمت پر مل رہا ہے اگر پیٹرول کی سپلائی نہ ہو تو پھر ہمارا کیا حال ہو گا، بھارت میں پیٹرول اور گیس اسٹیشنز پر لائنیں لگی ہیں۔
خرم شہزاد نے جواب دیا کہ بنگلادیش میں الیکشن ہوئے ہیں وہ ملین ڈالرز کی سبسڈی دے رہے ہیں جب کہ افغانستان کی معیشت درست نہیں وہاں چوری کا سامان آتا ہے وہاں کی مثال کیسے دی جاسکتی ہے، نائجیریا، ملائشیا، فلپائن اور دیگر ممالک میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں۔