پشاور(نیوز ڈیسک )جمعیت علمائے اسلام (ف ) نے اپنے صوبائی سرپرست، شیخ الحدیث، سابق ایم پی اے، رکن مرکزی مجلس شوری مولانا ادریس کے قتل کیخلاف کل(بدھ کو) ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیاجبکہ ضلع میں 3دن تک تمام دینی مدارس بند رہیں گے۔تفصیل کے مطابق جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مولانا ادریس کی شہادت کی مذمت و افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کی خبر سے دل رنجیدہ ہے، مولانا ادریس نے اسلام اور پاکستان کے دفاع کی قیمت چکائی ہے۔ سفید ریش عالم دین کی شہادت قرآن وسنت اور پاکستان کی بات کرنے والوں پر حملہ ہے۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ علما پاکستان کے بے لوث نظریاتی محافظ ہیں لیکن ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں۔ مولانا ادریس شہید نے ہمیشہ امن کی بات کی، افسوس کہ آج وہ خود بدامنی کا شکار ہوگئے۔ مولانا ادریس بلند پایہ عالم، نکتہ داں واعظ اور مدبر سیاستدان تھے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا شہید کی پوری زندگی دین کی اشاعت وخدمت میں گزاری، مولانا شہید سے برسوں پر محیط اعتماد، شفقت اور دوستی کا دیرینہ تعلق تھا، سفاک ظالموں نے ہمیں مخلص دوست اور با وفا رہنما سے محروم کردیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا دینی امور سمیت سیاسی معاملات میں صاحب الرائے اور دلیل کی بنیاد پر موقف رکھتے تھے، دارالعلوم حقانیہ کے درودیوار اور ہزاروں طلبا سمیت جے یو آئی کا ہر کارکن غمزدہ ہے، اللہ کریم مولانا کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کی خدمات کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے نشان عبرت بنایا جائے، لاقانونیت اور دہشت گردی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ادھر صوبائی قیادت کے مطابق مولانا محمد ادریس کو شہید کیا گیا، جس پر جماعت کے رہنماﺅ ں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ ہم کب تک جنازے اٹھاتے رہیں گے، ریاست شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت عوام کو سیکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی تو پھر اس کا وجود کیوں برقرار ہے۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ آج ملک کے تمام اضلاع میں بدامنی کے خلاف مظاہرے کیے جائیں گے اور حکومت سے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا جائے گا۔ پشاور میں سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے کہا ہے کہ علما ریاست کے خیر خواہ ہیں، مگر انہیں مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، جو تشویشناک ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں فارم 47 کی حکومت گزشتہ تیرہ سال سے مسلط ہے اور وہ امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خود تو امن برقرار نہیں رکھ سکتی لیکن وفاق کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔
سینیٹر عطاالرحمان نے کہا کہ اس وقت صوبے میں حکومت کی نہیں بلکہ دہشت گردوں کی عملداری نظر آتی ہے، جبکہ موجودہ صوبائی حکومت قوم کی دشمن بن چکی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آج ہونے والا احتجاج نہ صرف بدامنی کے خلاف ہوگا بلکہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف بھی بھرپور مظاہرے کیے جائیں گے۔ دریںاثنا مولانا محمد ادریس کی شہادت پرجے یو آئی ف نے ضلع چارسدہ میں 3دن تمام دینی مدارس بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔ پولیس کاکہنا ہے کہ 4ملزمان کی تصاویر پولیس نے حاصل کرلی ہیں،ڈی پی او کاکہنا ہے کہ فائرنگ میں سیکیورٹی پر مامور2پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔یادرہے کہ منگل کی صبح نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف عالم دین اور سابق ایم پی اے شیخ الحدیث مولانا ادریس جاں بحق ہوگئے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ اتمانزئی کے علاقے میں پیش آیا جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے مولانا ادریس کی گاڑی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کے ساتھ موجود 2 گن مین شدید زخمی ہوئے ہیں۔