واشنگٹن،تہران (انٹرنیشنل ڈیسک )امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے تقریبا 500 ملین ڈالرز مالیت کے کرپٹو کرنسی اثاثے ضبط کر لئے گئے ہیں ۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ہمارے آپریشن اکنامک فیوری نے تہران کی حکومت کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔اسکاٹ بیسنٹ نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ ہم تقریبا 350 ملین مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، اس کے علاوہ حال ہی میں حاصل کیے گئے مزید 100 ملین ڈالرز بھی اس رقم میں شامل ہیں، اس طرح مجموعی رقم تقریبا نصف ملین ڈالرز تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دنیا بھر میں ایرانی بینک اکاﺅ نٹس منجمد کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال مارچ میں اس معاشی دبا کی مہم کا حکم دیا تھا اور تقریبا 3 ہفتے قبل مجھے ہدایت دی کہ دبا مزید بڑھایا جائے۔امریکی وزیرِ خزانہ کے مطابق امریکا اب غیر ملکی حکومتوں اور کمپنیوں پر بھی زور دے رہا ہے کہ وہ ایران سے تعلقات ختم کریں۔اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ہم ایرانی تیل کے خریداروں سے رجوع کر چکے ہیں اور انہیں آگاہ کیا ہے کہ ہم ان کی صنعتوں اور ان بینکوں کے خلاف ثانوی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں جو اپنے نظام میں ایرانی تیل کی گنجائش یا سہولت فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی دباﺅ کی مہم اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ایران کی معیشت کو مستقل نقصان پہنچائے گی۔
ادھر ایران نے امریکی مہم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ایرانی اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے بھی اسکاٹ بیسنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایکس پر جاری بیان میں امریکی وزیرِ خزانہ کی جانب سے ٹرمپ کو دئیے گئے مشوروں کو بے کار قرار دیا ہے۔ ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی وزیرخزانہ جیسے لوگوں کے فضول مشورے تیل کو 120 ڈالر تک لے گئے اور یہ 140 تک جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تین دن گزر گئے، تیل کا کوئی کنواں خشک نہیں ہوا، ایسا 30 دن میں بھی نہیں ہوگا۔