کراچی(نیوز ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے عالمی یومِ مزدور کے موقع پر مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ اپنے پیغام میں ملک کے معاشی نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی تقدیر کسی ایوان میں نہیں بلکہ کارخانوں کی ہلچل اور کھیتوں کی خاموشی میں کام کرنے والے محنت کشوں کے ہاتھوں میں ہے مزدور صرف معیشت کا پہیہ نہیں بلکہ اس وطنِ عزیز کی شہ رگ ہیں،
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ محل بنانے والا خود بے گھر ہے اور کپڑا بننے والا خود تن ڈھانپنے کو ترس رہا ہے، پاکستان میں رائج سرمایہ دارانہ فرعونیت اور جاگیردارانہ جبر نے محنت کش کو صرف ایک پرزہ بنا کر رکھ دیا ہے مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم اجرت کے پرانے تصور کو بدل کر شراکت داری کے نئے عہد کا آغاز کریں، چیئرمین ایم کیو ایم نے حکومت وقت سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے اس قیامت خیز دور میں مزدور کی اجرت کو فقط زندہ رہنے کی حد تک نہیں بلکہ باعزت جینے کی حد تک بڑھایا جائے، جو ریاست اپنے معماروں کو تعبیر تعمیر تعلیم صحت اور بڑھاپے میں تحفظ فراہم نہیں کر سکتی اسے خود کو فلاحی کہلوانے کا کوئی حق نہیں، تمام محنت کشوں کو فی الفور سوشل سکیورٹی کے جال میں لایا جائے،
مزدور کے بچے کو بھی وہی خواب دیکھنے کا حق ہے جو کسی صاحبِ ثروت کے بچے کا ہے، ایم کیو ایم طبقاتی نظامِ تعلیم کو محنت کشوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان ملک کی واحد سیاسی قوت ہے جو متوسط طبقے کی نمائندگی کرتی ہے ایم کیو ایم ایوانوں میں محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھی بلکہ اس گلے سڑے نظام کے خلاف ایک توانا آواز ہے، ہمارا مقصد ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں محنت میں عظمت صرف کتابوں میں نہیں بلکہ مزدور کے دسترخوان پر نظر آئے، انہوں نے مزید کہا کہ آج کا دن تجدیدِ عہد کا دن ہے کہ ہم پسے ہوئے طبقات کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا کر دم لیں گے۔
٭٭٭٭٭٭