بیجنگ (نیوز ڈیسک) عالمی انٹرنیٹ کانفرنس 2026 ووچن سمٹ کا اختتام ہو گیا ۔ چار روز کے دوران، 130 سے زائد ممالک اور خطوں کے 1,800 سے زائد مہمانوں نے سمٹ کے موضوع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تبادلہ خیال کیا۔
سمٹ کی ایک اہم سرگرمی کے طور پر، ” لائیٹ آف دی انٹرنیٹ ” نامی ایکسپو نے 54 ممالک اور خطوں کے 671 چینی اور غیر ملکی کاروباری اداروں اورتنظیموں کو شرکت کے لیے راغب کیا، جس میں 1,000 سے زیادہ نئی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کی نمائش اور ریلیز دیکھی گئی ۔ 2015 میں، دوسری عالمی انٹرنیٹ کانفرنس میں، چینی صدر شی جن پھنگ نے تخلیقی انداز میں سائبر اسپیس میں ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کا تصور پیش کیا، جو انٹرنیٹ کی ترقی اور حکمرانی کے مسائل کا چینی حل فراہم کرتا ہے۔
نئی صورتحال اور چیلنجز کے پیش نظر ہم مزید جامع سائبر اسپیس کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو مل کر کیس ممکن بنا سکتے ہیں ؟ اس سال کی ووچن سمٹ کی افتتاحی تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں، چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے نشاندہی کی کہ ” سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ترقی کے نئے میدان تلاش کئے جائیں”، ” اعتماد اور کنٹرول کے اصول پر قائم رہتے ہوئے ڈیجیٹل سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے”، ” سب کے لئے فائدے اور توازن پر قائم رہتے ہوئے ڈیجیٹل فوائد کے اشتراک کو فروغ دیا جائے” اور “کھلے پن اور مکالمے پر قائم رہتے ہوئے کثیر الجہتی حکمرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے”۔ یہ چار نکات تمام فریقوں کے تحفظات کا جواب دیتے ہیں۔
تکنیکی ترقی دنیا کے لیے نیا ترقیاتی منافع لاتی ہے، لیکن اس سے عدم مساوات اور ترقی کا ایک نیا خلاء بھی پیدا ہو سکتا ہے ۔ آ ج بھی دنیا بھر میں 2 ارب سے زیادہ آبادی انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم ہے۔ موجودہ سمٹ میں، چین نے کہا کہ وہ “گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کو فعال طور پر نافذ کرے گا، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر، ڈیجیٹل ٹیلنٹس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں گلوبل ساؤتھ ممالک کی مدد کرے گا، تاکہ ڈیجیٹلائزیشن کے فوائد دنیا تک بہتر طریقے سے پہنچ سکیں۔” یہ اقدام ڈیجیٹل فرق کو مزید دور کرے گا اور مساوی اور طویل مدتی عالمی ترقی کو فروغ دے گا۔