میر رضا

کراچی، میر رضا کی قبر کشائی کیلئے تمام انتظامات مکمل، والد نے قبر کشائی سے روک دیا

کراچی (کرائم رپورٹر)کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی قبرکشائی کےلئے تمام انتظامات مکملکرلئے گئے تاہم والد نے قبر کشائی سے روک دیا ۔پولیس کی ٹیم پی ای سی ایچ ایس قبرستان پہنچ گئی تاہم میر رضا کے والد نے انتظامیہ کوبیٹے کی قبرکشائی سے روک دیا۔میر رضا کے والد کا کہنا ہے کہ راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کردیا گیا، اس لیے ہم قبر کشائی نہیں ہونے دیں گے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر علی رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر ایڈوکیٹ نے کہا کہ میڈیکل بورڈ سے متعلق تیسرا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، پہلے اور دوسرے میڈیکل بورڈ کو ضم کرکے تیسرا میڈیکل بورڈ بنایا گیا ہے، ہم میڈیکل بورڈ کے تیسرے نوٹیفکیشن کو بھی نہیں مانتے، میر رضا کے والدین نے بیانات تفتیشی افسر کو ریکارڈ کروادئیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبر کشائی کوئی مذاق نہیں، متنازع میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں قبر کشائی کی اجازت نہیں دیں گے، کیس میں سامنے آنے والی صورتِ حال انتہائی سنجیدہ ہے، عدالت نے پولیس سرجن اور پولیس کو ہدایت کی تھی، جس کے بعد ایک میڈیکل ٹیم تشکیل دی گئی، تاہم راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کر دیا گیا، جس پر شدید تحفظات ہیں۔

جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ میں کراچی کے ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے تھا، پہلے میڈیکل بورڈ میں کیا سرکار کے لوگ شامل نہیں تھے؟ پہلے میڈیکل بورڈ میں شامل ڈاکٹروں میں کیا خامی تھی کہ پہلے انہیں شامل کیا اور پھر نکال دیا؟ رات میں میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کی وجہ کیا ہے؟ یہ کون سی عجلت تھی، کون سی ایمرجنسی تھی کہ آپ نے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا، رات کی تاریکی میں نوٹی فکیشن کیسے جاری کیا گیا؟ پہلا نوٹی فکیشن واپس لیے بغیر نیا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا جناح اور ڈاو یونیورسٹی سرکار کی نہیں؟ کراچی کی ڈویژن کی حدود میں ڈا، جناح میڈیکل یونیورسٹی آتی ہے یا جامشورو یا حیدرآباد کا کوئی میڈیکل کالج؟ یہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ حیدرآباد کون ہیں اور ان کا کیا اختیار ہے؟ وہ کس قانون کے تحت میڈیکل بورڈ کے سپروائزنگ افیسر بن گئے؟ پولیس سرجن کراچی کے آرڈر کو کیسے سپر سیڈ کر دیا گیا؟ حیدرآباد سے جاری خط میں سیکریٹری صحت کے کس حکم کا حوالہ دیا گیا؟ میڈیا سے ہی ہمیں پتا چل رہا ہے کہ سرکار کیا گل کھلا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں کوئی متبادل یا پلان سی قبول نہیں، ہم صرف پہلے سے قائم 8 رکنی میڈیکل بورڈ کو تسلیم کرتے ہیں، قبر کشائی سے قبل آئی جی سندھ کا کیس حل کے قریب ہونے کا بیان سوالیہ نشان ہے، قتل میں ملوث افراد کے اثر و رسوخ کے باعث راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا، وزیراعلی سندھ اور بلاول بتائیں کہ ان کے صوبے میں ہو کیا رہا ہے، سندھ سے لوگ علاج کرانے کراچی آتے ہیں، میڈیکل بورڈ حیدرآباد سے بن رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسر کو 8 دن تک گولی کا خول نہیں ملا، جیسے ہی عدالت سے رجوع کیا تو گولی کا خول مل گیا، کچھ گھنٹوں بعد خبر آئے گی کہ بندوق بھی مل گئی، پستول کے بغیر خول کی برآمدگی تفتیش میں کیا اہمیت رکھتی ہے؟ تفتیشی افسر نے میر رضا کے کمرے کا معائنہ بھی نہیں کیا۔

جبران ناصر نے کہا کہ ایک باپ کی جوان اولاد قتل ہوئی ہے، اس لیے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے، قبر کشائی کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک حساس قانونی عمل ہے، اسی لیے متنازع میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں قبر کشائی کی اجازت نہیں دیں گے، میں صبح عدالت گیا تھا اور مجسٹریٹ بھی کچھ دیر میں قبرستان پہنچنے والے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں