لندن(نیوز ڈیسک)برطانوی حکومت سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اور برطانیہ میں اس کے کاموں کے بارے میں عوامی تفتیش کرنے پر غور نہیں کر رہی ہے
،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزارتِ انصاف نے ایک بیان میں کہا۔ایپسٹین کی موت کے تقریبا سات سال بعد اس سکینڈل نے برطانوی سٹیبلشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا جس کے نتیجے میں شاہ چارلس کے بھائی اینڈریو مانٹ بیٹن ونڈسر اور امریکہ میں سابق برطانوی سفیر پیٹر مینڈیلسن کی گرفتاری عمل میں آئی۔سکینڈل سے متاثرہ افراد کے وزیر الیکس ڈیوس جونز نے ایک روز قبل بتایا تھا کہ وزیرِ اعظم اینڈی برنہم تفتیش کے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیںلیکن بعد ازاں وزارتِ انصاف نے اس کا امکان فی الحال مسترد کر دیا ہے۔وزارتِ انصاف کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ ہماری ہمدردیاں جیفری ایپسٹین کے متثرین کے ساتھ ہیں جو اس تباہ کن صدمے سے بچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیرِ اعظم متثرین سے ملاقات کے لیے پرعزم ہیں لیکن عوامی تفتیش فعال طور پر زیرِ غور نہیں ہے۔برطانوی پولیس پہلے ہی بدنامِ زمانہ جنسی مجرم سے متعلق کئی الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں بچوں کے جنسی استحصال سے لے کر برطانیہ کے ائیرپورٹس کے راستے خواتین کی سمگلنگ اور عوامی ادارے میں بدتمیزی کے ممکنہ جرائم شامل ہیں۔