امریکی فوج

امریکی فوج کا ایران پر مسلسل ساتویں شب حملوں کے اختتام کا اعلان

واشنگٹن،تہران،کویت سٹی ،منامہ ،صنعا(انٹرنیشنل نیوز )امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات ہونےوالی فضائی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں، مشرقِ وسطی میں تعینات 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہر وقت جنگی کارروائی کےلئے تیار اور مکمل طور پر آپریشنل ہیں ،ایران کے صوبہ ہرمز میں امریکی فضائی حملوں میں 3 افراد شہید ہوگئے،ایران نے جوابی کارروائی کے طورپر کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملےکئے ہیں جس میںکئی اہلکار زخمی ہوگئے،ایرانی فوج نے عسلویہ کے قریب امریکی ڈرون مار گرنے کا دعوی کیاہے جبکہ ایران کے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے، کئی اہلکار زخمی ہوگئے ۔

عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام )کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر، زیرِ زمین اسلحہ گوداموں اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز، جنگی بحری جہازوں اور دیگر فوجی وسائل کا استعمال کیا گیا۔سینٹ کام نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کے احکامات کے مطابق ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانے کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی پر بھی مکمل طور پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔بیان کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطی میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو ہر وقت جنگی کارروائی کے لیے تیار اور مکمل طور پر آپریشنل ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ شب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج نے ایران پر حملوں کا ایک نیا دور شروع کیا ہے۔ سینٹ کام نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ یہ امریکی حملوں کی مسلسل ساتویں رات ہے۔ ایران کے پلوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کے حوالے سے جنگی جرم کے خدشات پر ردِعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاﺅ س نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔وائٹ ہاﺅ س کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں زیادہ تر شہری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور ایسے ہمسایہ ممالک پر بھی حملے کیے ہیں جن کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی حملے کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جائے اور ایرانی حکومت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے ڈپٹی گورنر نے کہا ہے کہ امریکی فضائی حملوں میں 3 افراد شہید ہوگئے۔عہدیدار کے مطابق حملوں میں مزید 8 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اس کے بحری فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ساحلی علاقے عسلویہ کے قریب ایک امریکی ایم کیو-9 ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے۔

ایرانی خبر رسااں ادارے مہر نیوز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے شعب تعلقاتِ عامہ کا اپنے ایک حالیہ بیان میں کہنا ہے کہ ڈرون کا سراغ لگانے کے بعد اسے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے زیرِ استعمال جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ کارروائی ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کی رہنمائی میں کی گئی۔بیان کے مطابق یہ کارروائی عسلویہ کے علاقے میں ایرانی فضائی حدود کے اندر انجام دی گئی، جو خلیج فارس کے ساحل پر واقع ایک اہم توانائی مرکز ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کامیاب کارروائی ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام ملک کی فضائی سرحدوں کے تحفظ اور کسی بھی جارحیت یا خلاف ورزی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر ایک اور کھلی جنگی جارحیت کا الزام عائد کیا۔اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ واشنگٹن نے ایک اور سنگین جنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے، امریکا اپنی مبینہ طاقت کا مظاہرہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر اور بے گناہ شہریوں کو قتل کرکے کر رہا ہے۔انہوں نے امریکی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر پر حملے بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کے مسلسل ساتویں رات حملوں کے جواب میں کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کیا ہے۔ایرانی فوج نے شمالی بحرِ ہند میں امریکی بحری جہاز پر کروز میزائل سے حملے کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملے جاری رہے تو بھرپور جوابی کارروائی کریں گے۔ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے بھی بحرین میں امریکی ڈرونز کے ڈپو کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے، بحرین میں امریکی ڈرونز کے ڈپو کو نشانہ بنانے کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ادھر کویت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہفتہ کی صبح سے ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو سراغ لگانے کے بعد فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

ایرانی حملوں کے دوران کویتی فوج کے کئی مراکز اور فوجی کیمپ ڈرون حملوں کا نشانہ بھی بنے، جس کے نتیجے میں زمینی افواج کے متعدد اہلکار زخمی ہوئے، تمام زخمیوں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔کویتی فوج نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایک بجلی گھر اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کے پلانٹ یعنی ڈی سیلینیشن پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے ایک اہم حصے میں آگ بھڑک اٹھی اور بعض حصوں اور بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کو بھی نقصان پہنچا۔اردن کی فوج نے کہا ہے کہ صبح سویرے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایران کے 10 میزائلوں کو اس کے فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا۔

فوج کے مطابق یہ کارروائی معمول کے دفاعی اقدامات کے تحت کی گئی تاکہ مملکت کی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جا سکے۔فوج نے مزید بتایا کہ ان میزائلوں کو تباہ کرنے کے نتیجے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا مالی یا مادی نقصان ہوا، اس کے علاوہ، رائل انجینیئرز کی ٹیموں نے متاثرہ مقامات سے میزائلوں کا ملبہ ہٹانے اور علاقے کو محفوظ بنانے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔دوسری طرف چند ہی گھنٹوں کے دوران تیسری مرتبہ بحرین بھر میں ہنگامی فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے ہیں، جبکہ حکام نے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں جانے اور اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، امریکی افواج کی میزبانی کرنیوالے ممالک کو مناسب ردعمل کی توقع رکھنی چاہیے۔پاسداران انقلاب گارڈز کے مطابق کویت کی الاحمدی بندرگاہ پر امریکی بحریہ کے ایندھن سپورٹ پِیئر کو نشانہ بنایا جبکہ بحرین کی شیخ عیسی ائیر بیس پر امریکی جنگی طیاروں کے مقام کو نشانہ بنایا۔ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ُµٍ میزائل حملہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اردن میں امریکی فوجی اڈے کو ایران نے میزائلوں سے نشانہ بنایا ، حملے میں کئی امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں تاہم کوئی اہلکار ہلاک نہیں ہوا۔روسی میڈیا کے مطابق اس حملے سے پہلے امریکی فوجیوں کا انخلا نہیں کرایا گیا تھا، امکان ظاہر کیاگیا تھا کہ اس حملے میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ادھر ایران پر امریکی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائی کے پیش نظر بحرین میں فضائی حملے کا الرٹ جاری کر دیا گیا۔بحرین کے حکام نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے، اس کے ساتھ ہی بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بھی فعال کر دئیے گئے ہیں۔بحرین کی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔ یمن کی حکومت نے کویت، بحرین، قطر اور اردن پر ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

یمنی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے “بلاجواز” ہیں اور متعلقہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ ہیں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی تصور کیے جاتے ہیں۔یمن کی حکومت نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی کے تحفظ کیلئے کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ دریں اثنا ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مجید موسوی نے کہا ہے کہ دشمن کے خلاف ایران کے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں دوبارہ امن بحال نہیں ہو جاتا۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بریگیڈیئر جنرل موسوی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ پورا ایران اس وقت ایک ساتھ دشمن کے خلاف کھڑا ہے۔ تہران سے لے کر جنوب تک ملک کا ہر حصہ یکساں اہمیت رکھتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے مختلف علاقوں سے دشمن کے خلاف ہمارے مثر اور انتہائی درست حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک جنوبی ساحلی پٹی اور آبنائے ہرمز میں سکون بحال نہیں ہو جاتا۔ایرانی خبر رساں ادارے پر یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن نصر 2 کے پندرہویں مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اس کی ایرو سپیس فورس نے قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس پر بھرپور جوابی حملہ کیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس کارروائی میں ایک طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والا ریڈار سسٹم، امریکی فضائی ایندھن بردار متعدد طیارے اور دیگر سٹریٹجک فوجی اثاثے بڑے پیمانی پر نقصان کا شکار ہوئے۔ایرانی فورس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی شہریوں یا بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے کیے گئے تو اس کا جواب اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔

اس دوران امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ ایران نے سعودی عرب میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغا ہے۔ بی بی سی کے مطابق ایگزیوس کی اس رپورٹ کے حوالے سے ا گر اس دعوے کی تصدیق ہو جاتے ہے تو یہ تقریبا چار ماہ کے دوران سعودی عرب پر ایران کا پہلا براہِ راست حملہ ہوگا۔

اس سے قبل ہفتہ کی صبح سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے الخرج اور ینبع کے شہروں کےلئے ممکنہ خطرے کا انتباہ جاری کیا تھا، تاہم بعد ازاں دونوں علاقوں میں خطرہ ختم ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ انتباہ میزائل حملے سے براہِ راست متعلق تھا یا نہیں۔تاحال امریکی فوجی اڈے کے درست مقام، میزائل کی صورتحال یا ممکنہ نقصان کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی، جبکہ ایران اور سعودی عرب کے حکام نے بھی اس دعوے پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں