لاہور(نیوز ڈیسک) سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک کا سارا بجٹ آزاد کشمیر پر نہیں لگایا جا سکتا، پورے ملک کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں افسوسناک صورتحال ہے جہاں احتجاج کرنے والے اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، تاہم بدقسمتی سے ایسا ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی اصل وجہ آزاد کشمیر کی بیڈ گورننس ہے جو دہائیوں سے جاری تھی اور عوام کے مسائل حل نہیں ہورہے تھے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات ایسے تھے جو تسلیم نہیں کیے جاسکتے۔ آزاد کشمیر میں بجلی بہت زیادہ سستی دی جارہی تھی ، وفاقی حکومت کی تمام گرانٹ اسی پر لگ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ترقیاتی کاموں کا مطالبہ جائز ہے ، اس کے ٹائم فریم پر بات کی جاسکتی ہے، تاہم سارا بجٹ آزاد کشمیر پر نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ پورے ملک کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں معاملات اس وقت خراب ہوئے جب مخصوص عناصر اسٹیج پر آکر پاکستان کے خلاف بات کرنے لگے۔
سابق وزیر ریلوے نے کہا کہ مہاجرین نے کشمیر کاز کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان کی نشستوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ہم لاکھوں کشمیریوں کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں شمار نہیں کیا جاسکتا، یہ ایسا بیانیہ ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مذاکرات کاروں نے بتایا کہ الحا ق پاکستان کا معاملہ بھی مطالبات میں ڈالا گیا، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 80 برس میں اپنا پیٹ کاٹ کر اتنی بڑی فوج تیار کی تاکہ اگر کسی دن کشمیر کے معاملے پر بھارت سے آمنا سامنا ہو تو شکست نہ ہو۔ کشمیر کاز کے لیے پاکستان نے ہر طرح کی قیمت ادا کی ہے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ تلخی بہت بڑھ چکی ہے ، دونوں جانب سے جانی نقصان بھی ہوچکا ہے، اس لیے مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ تمام فریقین پیچھے ہٹیں۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے والے اسٹیج سے اعلان کریں کہ الحاق پاکستان کی شق سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایک صاحب نے تسلیم کیا کہ ان کا اسٹیج غلط استعمال ہوا، لہذا جنہوں نے اسٹیج کا غلط استعمال کیا انہیں سائیڈ لائن کیا جائے۔ مذاکرات تو کسی بھی صورت ہونے ہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو انتخابات ہیں اور امید ہے کہ الیکشن ہوجائے گا۔ اطلاع کے مطابق آزاد کشمیر میں الیکشن کا ماحول بن گیا ہے اور لوگوں کو ووٹ ڈالنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی اسمبلی کی مدت ختم ہوچکی ہے، نئی اسمبلی آئے گی تو بات چیت کرے گی اور مسئلے کا حل نکالے گی۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ قیادت کی جانب سے 11 نشستوں پر ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کا الیکشن سیاسی جماعتوں کا الیکشن نہیں بلکہ یہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان کا رشتہ کیا ہے۔ اگر بھاری ووٹ پڑتے ہیں اور نظریہ پاکستان کو ووٹ ملتے ہیں تو اس سے پاکستان اور کشمیریوں کے رشتے میں ڈالنے والی دراڑ ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ادھر بھی ہے اور ادھر بھی ہے، تاہم پیپلز پارٹی کا 12 نشستوں پر کوئی اسٹینڈ نہیں ہے۔ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ ہوگا۔ الیکشن اچھا ہو یا اچھا نہ ہو، سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل سے باہر نہیں جانا چاہیے۔
پی ٹی آئی کو بھی آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے تھا۔ خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ جیسے گلگت بلتستان میں سب نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا، اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی انتخابی نتائج کو قبول کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان میں پیچھے ہٹے اور پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا، اگر ہم آزاد کشمیر میں جیت جاتے ہیں تو توقع کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بھی ہمیں حکومت بنانے کا موقع دے گی۔