حافظ نعیم الرحمان

پیپلز پارٹی کے سسٹم کو گلگت بلتستان تک پھیلا دیا گیا ہے،حافظ نعیم الرحمان

کراچی(نیوز ڈیسک )امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سسٹم کو گلگت بلتستان تک پھیلا دیا گیا ہے،بجٹ میں عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو اگلے روز ہڑتال کا اعلان کیا جا سکتا ہے ، مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ وفاقی بجٹ میں کراچی کے بنیادی مسائل، خصوصا پانی، ٹرانسپورٹ اور روزگار کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بجٹ 2 دن بعد پیش کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے حکومت کی جانب سے مشکلات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے سسٹم کو گلگت بلتستان تک تحفے کے طور پر پھیلایا گیا ہے۔ یہ لوگ نہ پانی، نہ روزگار اور نہ ہی یونیورسٹی روڈ جیسے بنیادی منصوبے مکمل کر سکے ہیں۔ فارم 47 کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کو نوازا گیا ۔ یہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں جو مل کر طے کرتے ہیں کہ انکل سے کتنا شیئر لینا ہے۔حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت بجٹ میں لیوی جیسے ٹیکس نافذ کر کے عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے۔

ہر چیز پر ٹیکس لگا کر مافیاز کو سپورٹ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی برآمد کے فیصلے میں شوگر مافیا شامل ہے جو پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں میں موجود ہے اور یہ ایک پورا کنسورشیم ہے جو عوام کو لوٹ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو بجلی استعمال نہیں ہوتی اس کا بل بھی عوام ادا کرتے ہیں، اس لیے جب تک بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں کم نہیں ہوں گی معیشت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بجٹ میں عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو اگلے روز ہڑتال کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے کو تیار نہیں۔ ایف بی آر جیسے ادارے میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی کرپشن موجود ہے اور اس کے لیے سیکڑوں لگژری گاڑیوں کی خریداری کی جا رہی ہے۔

کراچی کے پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں 15 دن تک پانی نہیں آتا۔ کے فور 260 ملین گیلن پانی کا منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور سندھ حکومت دونوں اس معاملے میں ناکام ہیں، اس لیے کراچی کے مسائل خود حل کرنا ہوں گے۔ بجٹ میں پانی کے مسئلے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے ایک اور معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی شہری جو بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ان کی بازیابی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کل 17 افراد اغوا ہیں جن میں 10 کا تعلق کراچی سے اور دیگر کا مختلف علاقوں سے ہے۔ ان یرغمالیوں کو نہ کھانا میسر ہے نہ پانی، جبکہ ان کے اہل خانہ شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے، وزارت خارجہ اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سندھ اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا لیکن اسے وفاق کا مسئلہ قرار دیا گیا، حالانکہ یہ تمام پاکستانی شہری ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ہر سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔ حکومت کو فوری طور پر ان شہریوں کی بازیابی کے اقدامات کرنے چاہییں۔انہوں نے کہا 28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لئے کام کر رہی ہیں، جبکہ عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کےلئے کے فور اور ایس تھری منصوبوں سمیت ماس ٹرانزٹ منصوبوں کے لئے فوری طور پر فنڈز جاری کیے جائیں، کے فور منصوبہ، جس کے ذریعے 260 ملین گیلن پانی فراہم کیا جانا تھا، تاحال مکمل نہیں کیا جا سکا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی میں 653 سرکاری نشستیں خالی ہیں، لیکن ان پر بھرتیوں کےلئے مناسب اقدامات نہیں کیے جا رہے ۔

انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کو نااہل ادارہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ادارے میں اربوں روپے کی کرپشن موجود ہے، جبکہ ایف بی آر کے لئے مہنگی گاڑیوں کی خریداری کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کراچی کے مسائل کے حل کےلئے وفاق اور سندھ حکومت سنجیدہ اقدامات کریں، کیونکہ شہر کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ سندھ اسمبلی میں بعض مسائل کو وفاقی معاملہ قرار دے کر ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ کراچی کے عوام مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں