گلگت(نیوز ڈیسک)گلگت بلتستان میں عام انتخابات کیلئے ووٹنگ آج 7 جون (اتوار)کو ہو رہی ہے ،سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ ضلع دیامر میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیا گیا ہے۔گلگت بلتستان کے انتخابات کیلئے 24 حلقوں میں 396 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 266 آزاد امیدوار شامل ہیں، 7 خواتین امیدوار بھی الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔انتخابات کیلئے 1368 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 480 پولنگ سٹیشن انتہائی حساس، 350 حساس جبکہ 457 نارمل قرار دئیے گئے ہیں۔صوبہ بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 780 ہے، مرد ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 3 ہزار 772 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 708 ہے۔
صوبائی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں ، ا نتخابی عمل کے دوران 15 ہزار پولیس اہلکار سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔مقامی پولیس اور جی بی اسکاوٹس کے اہلکار تعینات ہوں گے۔انتخابات میں پیپلز پارٹی 23 امیدوار، ن لیگ 22 ، استحکامِ پاکستان پارٹی 15، پاکستان مسلم لیگ 11،جے یو آئی ف کے 9 امیدوارمیدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ ایم ڈبلیو ایم 7،جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6،6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ 266 آزاد امیدوار بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ 24حلقوں کےلئے ہزاروں کی تعداد میں انتخابی عملے کو ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں الیکشن ڈیوٹی پر مامور انتخابی عملے کی بڑی عید ہو گئی ہے۔الیکشن ڈیوٹی پر مامور ساڑھے 7ہزار افسران اور ملازمین کے لئے 27کروڑ60لاکھ روپے اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے۔ 24 حلقوں کے 24ریٹرننگ افسران کے لیے18لاکھ اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے جب کہ اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کے لئے 12لاکھ روپے مقرر کئے گئے ہیں۔اسی طرح 24حلقوں میں تعینات 1368پریزائڈنگ افسران کے کےلئے ایک کروڑ64لاکھ16ہزار اعزازیہ اور 2450اسسٹنٹ پریزائڈنگ افسران کےلئے 2کروڑ45لاکھ اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے۔ا سی طرح 2450پولنگ افسران کے کے 2کروڑ 40لاکھ اعزازیہ مقرر ہوا ہے۔دوسری جانب ضلع دیامر میں امن و امان کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے اور ڈپٹی کمشنر دیامر نے 60 روزہ پابندیوں کا حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس کے تحت دیامر میں اسلحہ کی نمائش اور ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی ہوگی۔حکم نامے کے مطابق پٹاخوں کے استعمال پر بھی 60 روز کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے۔ تمام اقسام کے ڈرونز اور یو اے ویز کی غیر مجاز پرواز بھی ممنوع قرار دی گئی ہے جب کہ ڈرون اڑانے کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا این او سی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح حساس تنصیبات کے تحفظ کے لئے سخت انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پابندیوں سے مستثنی ہوں گے۔ انتظامیہ نے اس سلسلے میں شہریوں سے احکامات پر عملدرآمد کی اپیل کرتے ہوئے بتایا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ضلع میں عوامی جان و مال کے تحفظ کےلئے خصوصی حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں اور ضلعی انتظامیہ متحرک ہے۔