لاہور(نیوز ڈیسک)لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ واضح قواعد و ضوابط نہ ہونے ، مختلف اداروں کے متضاد تقاضوں اور رجسٹریشن کے پیچیدہ عمل نے مختلف محکموں کے ملازمین کے اربوں روپے کے بینیفٹ فنڈز کو عملاًمنجمد کر کے رکھ دیا ہے،پنجاب ٹرسٹ ایکٹ 2020 کے تحت ٹرسٹس کی لازمی رجسٹریشن تو نافذ کر دی گئی مگر حکومت آج تک ایسا موثر طریقہ کار نہیں دے سکی جس کے تحت پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی فنڈ اور سپر اینویشن ٹرسٹس آسانی سے قانونی تقاضے پورے کر سکیں۔
لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری فاروق گجر نے اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب حکومت نے 2022 کی ترامیم کے ذریعے سپیشلائزڈ ٹرسٹس میں ایمپلائی بینیفٹ فنڈز کو بھی شامل کر دیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان فنڈز کی نگرانی، منظوری اور ریگولیشن کا حتمی اختیار کس ادارے کے پاس ہوگا،نتیجتاً ادارے اس وقت پنجاب ٹرسٹ رجسٹریشن اتھارٹی، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان چکر لگانے پر مجبور ہیں۔
انہوںنے مزید کہا کہ ایف بی آر ٹیکس چھوٹ اورتصدیق شدہ پروویڈنٹ فنڈکا درجہ دینے کے لیے الگ شرائط عائد کرتا ہے جبکہ پنجاب ٹرسٹ ایکٹ کے تحت نئی رجسٹریشن، این او سی اور اضافی قانونی دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب ایس ای سی پی بعض معاملات میں کمپنی قوانین اور کارپوریٹ گورننس کے تقاضے سامنے رکھتا ہے جس سے نجی ادارے شدید کنفیوژن اور قانونی بے یقینی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی کمپنیوں اور اداروں کے ملازمین ریٹائر ہو چکے ہیں مگر ان کے واجب الادا فنڈز صرف اس لیے جاری نہیں ہو پا رہے کیونکہ متعلقہ ٹرسٹس کی رجسٹریشن اور قانونی حیثیت کے معاملات تاحال حل طلب ہیں۔
بعض اداروں نے تو نئے فنڈز جمع کروانا بھی محدود کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔انہوںنے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر واضح رولز آف بزنس، یکساں پالیسی اور ون ونڈو آپریشن متعارف نہ کرایا تو یہ بحران صرف نجی اداروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ لاکھوں ملازمین کی ریٹائرمنٹ سکیورٹی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔مطالبہ ہے کہ پنجاب حکومت، ایف بی آر اور ایس ای سی پی فوری مشترکہ پالیسی جاری کریں تاکہ ایمپلائی بینیفٹ ٹرسٹس کے لیے واضح اور قابل عمل فریم ورک بنایا جا سکے۔