لاہور(نیوز ڈیسک) فاﺅنڈر ز گروپ کے سرگرم رکن ،پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈاورسابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ حکومت اسٹیک ہولڈرز کو پیشگی یقین دہانی کرائے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ ماضی کاتسلسل نہیں ہوگا ،پالیسی ساز یہ سمجھ لیں کہ ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر سرمایہ کاری، دستاویزی معیشت اور مسابقتی صلاحیت بحال نہیں ہو سکتی ،معاشی بحالی کے لیے قلیل مدتی ٹیکس اقدامات اور ہر سال کے عبوری مالی بندوبست پر مزید انحصار سے کسی صورت پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاست کو محصولات کی اشد ضرورت ہے مگر ٹیکس وصولی کے لیے اختیار کیے جانے والے روایتی او ربوسیدہ طریقے سرمایہ کاری کو دباﺅ میں لانے ، معیشت کی دستاویزی شکل کی حوصلہ شکنی اور طویل مدتی پیداواری صلاحیت کو محدود کرتے جا رہے ہیں۔ پائیدار محصولات میں اضافہ صرف ٹیکس نیٹ کی توسیع، ڈیجیٹلائزیشن، قواعد و ضوابط کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔
خادم حسین نے کہا کہ آج پاکستان کو مالی دباﺅ، کمزور پیداواری صلاحیت، صنعتی مسابقت میں کمی، سرمائے کے انخلا ءکے خدشات اور سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد جیسے سنگین مسائل کا بیک وقت سامنا ہے۔اگرچہ معاشی استحکام کے لیے کیے گئے بعض اقدامات نے وقتی طور پر بیرونی قرضوں کے بحران کے خطرات کم کیے ہیں تاہم معیشت کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی کمزور ہے۔ خطے میں پاکستان کا ٹیکس نیٹ بدستور محدود ترین شمار ہوتا ہے، جبکہ رسمی یا دستاویزی شعبہ غیر متناسب حد تک ٹیکس بوجھ اٹھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ ، انڈونیشیا ءاور ویت نام جیسے ممالک نے محصولات میں اضافہ محض ٹیکس شرحیں بڑھا کر حاصل نہیں کیا بلکہ معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنا کر حاصل کیا ہے اور پاکستان کو بھی اس طرف پیشرفت کر نا ہو گی ۔