لاہور( نیوز ڈیسک)آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آئی ایم ایف کو 860 ارب کے اضافی ٹیکس اقدامات کی یقین دہانی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگے یوٹیلٹی بلز اور ٹیکسز کے بوجھ کی وجہ سے کاروبار کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے ۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی وجہ سے ہر طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہے ، مہنگائی ، عوام کی قوت خرید میں کمی اور مختلف ٹیکسز کے بوجھ کی وجہ سے تاجر طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہے ۔
اشرف بھٹی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے شکنجے کی وجہ سے معیشت سکڑ نا شروع ہو گئی ہے اور اس کے انتہائی منفی نتائج سامنے ؟آ رہے ہیں۔ حکومت سے اپیل ہے کہ آئی ایم ایف کو قائل کیا جائے کہ وہ کڑی شرائط واپس لے تاکہ معیشت کی سانسیں چلتی رہیں۔ اشرف بھٹی نے کہا کہ حکومت قرض اتارنے کے لئے جلد از جلد قومی پالیسی کا اعلان کرے ۔