واشنگٹن(انٹرنیشنل نیوز )جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آہن گیو بیک نے کہا ہے کہ سیﺅل آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش میں بتدریج اپنا کردار ادا کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم وہ اس میں عسکری طور پر شامل نہیں ہو گا۔
بدھ کے روز واشنگٹن میں جنوبی کوریا کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یہ موقف وہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ ملاقات میں بھی پیش کر چکے ہیں۔جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق آہن گیو بیک نے کہا کہ ہم عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر (آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی یقینی بنانے کے لئے )کردار ادا کریں گے، اور بتدریج یہ سوچیں گے کہ ہم کن طریقوں سے تعاون کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ممکنہ اقدامات میں سیاسی حمایت کا اظہار، عملے کی فراہمی، معلومات کا تبادلہ اور عسکری وسائل کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔تاہم انھوں نے واضح کیا کہ جنوبی کوریا کے فوجیوں کی شمولیت بڑھانے سے متعلق کوئی تفصیلی بات چیت نہیں کی گئی۔