احسن اقبال

حکومتی اخراجات پورے کرنے کیلئے لیوی یا کسی اور صورت میں ٹیکس اکھٹا کرنا پڑتا ہے، احسن اقبال

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے پٹرول و ڈیزل مہنگا کرنے کا جواز بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب عوام ٹیکس نہیں دیتے تو حکومت کے پاس کوئی اور طریقہ نہیں ہوتا کہ وہ بجلی کے بلوں سے یا پٹرول سے ٹیکس اکھٹا کرے، حکومتی اخراجات پورے کرنے کیلئے لیوی یا کسی اور صورت میں ٹیکس اکھٹا کرنا پڑتا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ کے اثرات سے زیادہ حکومتی ٹیکسز اور لیوی کے نفاذ پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے نئی توجیہہ بیان کی ، انہوں نے واضح کیا کہ ملکی معیشت اور اخراجات کو سہارا دینے کےلئے حکومت کو بالواسطہ ٹیکسز کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ “عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اپنا ٹیکس اور لیوی کیوں بڑھا دیتی ہے؟”، احسن اقبال نے جواب میں کہا کہ “جب شہری اور مختلف شعبے اپنے واجب الادا ٹیکس ادا نہیں کرتے تو حکومت کے پاس ریونیو اکٹھا کرنے کےلئے کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہوتا”۔

ان کا کہنا ہے کہ “حکومت کو اپنے انتظامی اخراجات پورے کرنے، قرضوں کی ادائیگی اور ترقیاتی کاموں کےلئے فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے، اگر براہِ راست ٹیکسز جمع نہ ہوں تو حکومت مجبورا بجلی کے بلوں اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی لگاتی ہے، حکومت چلانے کےلئے ہونے والے اخراجات کو ہر صورت پورا کرنا پڑتا ہے، اگر ٹیکس نیٹ نہیں بڑھے گا تو عوام کو پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں لیوی کی صورت میں بوجھ اٹھانا پڑے گا”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں