کراچی (کرائم رپورٹر)کراچی کے نوجوان میر رضا کی ہلاکت کے کیس میں تفتیش نے ایک بالکل نیا اور اہم رخ اختیار کر لیا ، جہاں تفتیشی اداروں کو مقتول کے جسمانی شواہد اور کیمیائی تجزیے سے انتہائی حساس معلومات حاصل ہوئی ہیں۔تفتیشی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میر رضا کے معدے اور پھیپھڑوں سے اہم ترین شواہد ملے ہیں۔
تفتیشی ماہرین کو مقتول کے پھیپھڑوں پر غیر معمولی اثرات کے واضح شواہد ملے ہیں، جبکہ ان کی شرٹ سے کسی دوسرے شخص کے پسینے کے نشانات بھی حاصل ہوئے ہیں جن کی ڈی این اے اور کیمیائی تجزیے کے لیے فارنزک رپورٹ کا شدید انتظار کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ مقتول کے ہاتھوں اور پیروں سے بھی انتہائی اہم شواہد جمع کر لئے گئے ہیں جو واقعے کی اصل نوعیت کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔اس دوران تفتیش کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب واقع اس مشکوک گیسٹ ہاﺅس کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے جہاں سے میر رضا کی لاش ملی تھی۔
پولیس نے اس گیسٹ ہاﺅس سے وابستہ چھ ملازمین کو بھی اپنی حراست میں لے لیا ہے تاکہ واقعے کی رات کی سرگرمیوں کا پتہ چلایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق اس کیس کی چھان بین کے سلسلے میں اب تک مجموعی طور پر اکیس افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں میر رضا کے قریبی دوست اور ان کے کاروباری شراکت دار بھی شامل ہیں۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام زیرِ حراست افراد کو مختلف سوالنامے دیے گئے ہیں اور ان کے تفصیلی بیانات ریکارڈ کرلئے گئے ہیں۔